ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قوانین اور عالمی معاہدوں کے احترام پر یقین رکھتا ہے اور عالمی تنازعات کے پُرامن حل کے لیے ہمیشہ تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا،  موجودہ عالمی حالات میں اقوام متحدہ کے ادارہ جاتی کردار کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے تاکہ دنیا کو درپیش سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق کے مسائل کا بہتر انداز میں سامنا کیا جاسکے۔

وزیراعظم نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں پر بلاامتیاز اور مؤثر عمل درآمد عالمی امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور عالمی اصولوں پر یکساں عمل درآمد ہی انصاف پر مبنی عالمی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے تین بنیادی ستون، یعنی عالمی امن و سلامتی، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق، ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ان تمام شعبوں میں متوازن اور مؤثر پیش رفت کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، ترقی پذیر ممالک کو درپیش معاشی، ماحولیاتی اور سماجی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو ایسے ممالک کی معاونت کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف بروقت حاصل کیے جاسکیں۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ کثیرالجہتی نظام، باہمی تعاون اور سفارت کاری کے ذریعے عالمی مسائل کے حل کا حامی رہا ہے اور مستقبل میں بھی اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر عالمی امن، ترقی اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار ربیکا گرینسپن نے عالمی ادارے میں پاکستان کی طویل، فعال اور ذمہ دارانہ خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مختلف عالمی فورمز پر امن، ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔

مزید پڑھیں: پہلے ڈبے سے کچھ اور نکلتا تھا، اب فارم 47 والے نکلتے ہیں؛ حافظ نعیم الرحمان

انہوں نے حالیہ عرصے میں خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی قابلِ تعریف قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نے ذمہ دار ریاست کے طور پر تعمیری اور مثبت کردار ادا کرتے ہوئے علاقائی کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ کی حمایت کی ہے، جسے عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ عالمی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے کردار کو مزید مضبوط، فعال اور مؤثر بنانا ناگزیر ہے، جبکہ عالمی امن، انصاف، ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔