تفصیلات کے مطابق قائم مقام صدر کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 200 کی ذیلی شق (1) کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلے کے لیے وزیراعظم کی سفارش پر مبنی سمری کے پیرا 7 کی منظوری دی جاتی ہے۔
وفاقی وزارتِ قانون و انصاف نے قائم مقام صدر کی منظوری کے بعد تینوں ججوں کے تبادلے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق صدر مملکت نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارش پر آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 200 کی ذیلی شق (1) کے تحت جسٹس محسن اختر کیانی کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ، جسٹس بابر ستار کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس ثمن رفعت کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے سندھ ہائی کورٹ تبادلے کی منظوری دے دی ہے۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے تینوں ججوں کے تبادلے کی منظوری دی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں دیگر دو ججوں، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو، کے تبادلے کی سفارش واپس لے لی تھی۔
جسٹس محسن اختر کیانی تبادلے کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں سینیارٹی کے لحاظ سے 12ویں نمبر پر ہوں گے، جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں وہ سینئر ترین جج تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں تیسرے نمبر پر موجود جسٹس بابر ستار پشاور ہائی کورٹ میں چھٹے نمبر پر ہوں گے، جب کہ جسٹس ثمن رفعت سندھ ہائی کورٹ کی سینیارٹی فہرست میں 16ویں نمبر پر ہوں گی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں سینیارٹی لسٹ میں ان کا نمبر 6 تھا۔







