سرکاری نیوز ایجسنی کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں کاروبار بڑھانے اور معاشی ترقی کے لیے ہماری بندرگاہوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ کاروباری سہولت کے لیے بندرگاہوں سے منسلک مختلف ادارے آپس میں تعاون کو مزید بہتر کریں تاکہ کارگو کا ڈویل ٹائم کم سے کم ہو سکے اور مختلف نوعیت کے پورٹ چارجز میں کمی کی جائے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بندرگاہوں میں پڑے متروکہ کارگو کی نیلامی کے لیے شفاف نظام لایا جائے، متروکہ کارگو کے لیے ملک کی مختلف بندرگاہوں میں الگ یارڈز بنائے جائیں اور اس کے لیے عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں کی خدمات لی جائیں۔

انہوں نے کارگو کی جانچ کے لیے ابتدائی ٹیسٹنگ لیب بندرگاہوں پر بنانے کی ہدایت کی اور غیر ضروری لیبارٹری ٹیسٹ ختم کرنے کی تاکید کی۔

شہباز شریف نے پاکستان کی تمام بندرگاہوں کی ڈریجنگ اور توسیع کے کام کو تیز کرنے کی ہدایت کی تاکہ بڑے جہاز لنگر انداز ہو سکیں اور اندرون ملک کارگو کے نقل و حمل کے لیے ریل کی کنکٹیویٹی بہتر بنائی جا سکے۔

اجلاس میں وزیراعظم نے زیاد بشیر کی سربراہی میں ورکنگ گروپ کی محنت اور ٹھوس تجاویز کو سراہا۔ زیاد بشیر نے بتایا کہ پی آئی اے کی شفاف نجکاری سے پاکستان کی کاروباری برادری کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ نیشنل پورٹس ماسٹر پلان پر کام تیزی سے جاری ہے، پورٹ کمیونٹی سسٹم حال ہی میں آپریشنل کیا جا چکا ہے اور پاکستان کی مختلف بندرگاہوں پر فیسوں میں کمی لائی جا رہی ہے۔ پورٹ قاسم میں بلک کارگو کی فیسوں میں 50 فیصد سے زیادہ کمی کی گئی ہے اور نئی سرمایہ کاری سے بندرگاہوں کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں ایک ہزار 18 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے منظور

مزید بتایا گیا کہ متروکہ کارگو کی نیلامی کے لیے بہت جلد ای-بڈنگ کا نظام متعارف کرایا جائے گا، جس کے ذریعے ملک بھر سے کوئی بھی شخص حصہ لے سکے گا۔ کراچی کی بندرگاہوں کی توسیع اور ڈریجنگ کے لیے ٹینڈرز جاری کیے جا چکے ہیں اور کام بہت جلد شروع ہو جائے گا۔

اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، احد خان چیمہ، محمد جنید انوار چوہدری، مصدق ملک، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران بھی شریک ہوئے۔