وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی چین روانہ ہوئے ہیں۔
اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم چینی شہر ہانگژو پہنچیں گے، جہاں وہ صوبہ ژے جیانگ کی کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری سے ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ پاک چین بزنس فورم میں بھی شرکت کریں گے، جس کا مقصد دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس موقع پر مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب بھی منعقد ہوگی۔
دورے کے دوران وزیراعظم مختلف معروف چینی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے جبکہ چینی ای کامرس کمپنی علی بابا کے ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی ان کے شیڈول میں شامل ہے۔ اس موقع پر باہمی تعاون سے متعلق متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔
بعد ازاں وزیراعظم بیجنگ جائیں گے جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں کریں گے۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اپنے چار روزہ دورہء چین کے پہلے مرحلے میں ہانگژو روانہ.
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) May 23, 2026
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ اور معاون خصوصی طارق فاطمی وزیرِ اعظم کے ہمراہ… pic.twitter.com/NqJfxCkcfp
وہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر منعقد ہونے والی خصوصی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔
وزیراعظم اپنے دورے کے دوران ممتاز چینی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتوں کے علاوہ چائنا اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کا دورہ بھی کریں گے۔
حکومتی حکام کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ پاک چین تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، اقتصادی تعاون بڑھانے اور سی پیک کے دوسرے مرحلے میں نئی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔







