اس موقع پر دوحہ ایئرپورٹ کو پاکستانی پرچموں سے سجایا گیا تھا جبکہ وزیراعظم کی آمد پر قطری مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور ترجمان برائے بین الاقوامی میڈیا مشرف زیدی بھی موجود تھے۔
وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق قطر کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی قطری فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے وزیراعظم کے خصوصی طیارے کو حفاظتی حصار میں لے لیا اور انہیں باحفاظت دوحہ ایئرپورٹ تک پہنچایا۔ اس غیر معمولی پروٹوکول کو دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے اس دورے کے دوران قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے اہم دو طرفہ ملاقات کریں گے، اس ملاقات میں پاکستان اور قطر کے درمیان تعلقات، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
مزید یہ کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے اور عالمی امن و سلامتی کی صورتحال پر بھی گفتگو متوقع ہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی اور امن کوششوں کو بھی ایجنڈے میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
قطری حکام کی جانب سے وزیراعظم کے استقبال کو غیر معمولی اہمیت دی گئی، اور ایئرپورٹ سے شہر تک مختلف مقامات پر پاکستانی اور قطری پرچم لہراتے دیکھے گئے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کا واضح اظہار ہوا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق اس دورے کا مقصد دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا ہے، خاص طور پر توانائی، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کے حوالے سے پیش رفت متوقع ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ خطے میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کے تسلسل کا حصہ ہے، جس کے ذریعے اسلام آباد اپنے اہم شراکت دار ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔







