عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ تاحال سرحدی گزرگاہیں بند ہیں، لیکن زندگی آہستہ آہستہ معمول کی جانب لوٹ رہی ہے۔
خبر رساں ادارے سے پاکستانی علاقے بیزئی کے 56 سالہ دکاندار صادق شاہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اب سکون کا سانس لے سکتے ہیں اور اطمینان محسوس کر رہے ہیں، لیکن اس سے قبل فائرنگ سے اُن کے گاؤں کے کچھ گھروں کو نقصان پہنچا تھا۔
صادق شاہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ ناقابلِ یقین ہے، دونوں طرف مسلمان اور نسلی طور پر پشتون ہیں، تو پھر لڑائی کیوں؟ پہلے افغانستان کے ساتھ تجارت اسی راستے سے ہوتی تھی اور اب ہم ایک دوسرے پر گولیاں چلا رہے ہیں۔
افغان شہر اسپن بولدک کے 39 سالہ کار فروش نیاز محمد آخند کا خبر رساں ادارے سے کہنا تھا کہ یہاں کے لوگ جنگ بندی سے بہت خوش ہیں۔ لوگوں کے پاس نہ زمین ہے، نہ کوئی دوسرا ذریعہ آمدن اور دونوں جانب سب کا انحصار سرحد پار تجارت پر ہے۔
Welcome the Agreement finalized late last night in Doha. It is the first step in the right direction.
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) October 19, 2025
Deeply appreciate the constructive role played by brotherly Qatar and Turkiye.
We look forward to the establishment of a concrete and verifiable monitoring mechanism, in the…
24 سالہ ریڑھی بان نعمت اللہ نے بھی اے ایف پی سے گفتگو میں امید ظاہر کی کہ یہ مسئلہ دوبارہ پیدا نہیں ہوگا۔
ایک پاکستانی شہری مارکیٹ ورکر عمران خان نے دونوں ممالک کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ ایسا نظام قائم کیا جائے جو ان تنازعات کے خاتمے کو یقینی بنائے اور دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ بھائیوں جیسا برتاؤ کریں۔
پشاور کے قریب ایک پاکستانی کسٹمز اہلکار کے مطابق، 1,500 سے زائد ٹرک، ٹریلرز اور کنٹینرز جن میں سیمنٹ، ادویات، چاول اور دیگر اشیائے ضرورت موجود ہیں اور وہ طورخم میں پھنسے ہوئے ہیں۔
افغان وزارتِ معیشت کے ترجمان عبد الرحمان حبیب کے مطابق پھل اور سبزیاں پاکستان برآمد ہونے کے انتظار میں خراب ہو رہی ہیں اور کاروباری طبقہ اس کا نقصان اٹھا رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو قیمتوں میں اضافہ، بیروزگاری میں اضافہ اور منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔اس لیے تجارتی تعلقات کو سیاسی معاملات سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں کا آغاز 9 اکتوبر کو کابل میں ہونے والے دھماکوں کے بعد ہوا تھا۔ طالبان حکومت نے ان دھماکوں کا الزام پاکستان پر عائد کیا اور جوابی کارروائی کے طور پر سرحدی حملے کیے، جس پر پاکستان نے سخت ردِعمل دینے کا اعلان کیا تھا۔
مزید جھڑپوں میں فوجی اور شہری ہلاکتوں کے بعد دونوں ممالک نے بدھ کے روز ابتدائی طور پر 48 گھنٹے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ تاہم جمعے کو پاکستان نے افغانستان میں دوبارہ فضائی کارروائیاں کیں اور کہا کہ اس نے ان مسلح گروہوں کو نشانہ بنایا جو طالبان کی پناہ میں پاکستانی سرزمین پر حملے کرتے ہیں، جب کہ کابل نے ان الزامات کی تردید کی۔
بعد ازاں اتوار کو دونوں ممالک نے دوسری جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کے بعد سرحدی علاقوں کے لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا۔
Press Release
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) October 19, 2025
Negotiations between representatives of the Islamic Emirate of Afghanistan and the Islamic Republic of Pakistan, held in Qatar, have concluded with the signing of a bilateral agreement.
1/5
سرحدی کشیدگی سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔ اس ہفتے سرحد صرف اتنی دیر کے لیے کھولی گئی کہ پاکستان سے نکالے گئے افغان مہاجرین کو واپسی کی اجازت دی جا سکے۔ افغان مہاجرین کی بے دخلی کی یہ مہم 2023 میں شروع کی گئی تھی۔
خبررساں ادارے کے مطابق پاکستانی شہر طورخم جو عام طور پر افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں داخلے کی مصروف ترین گزرگاہ ہے، وہاں سینکڑوں ٹرک ڈرائیور رنگ برنگے ٹرکوں کے پاس چائے پیتے ہوئے انتظار کر رہے تھے کہ کب سرحد کھلے گی اور وہ کب اپنی منزل کی جانب بڑھیں گے۔
دوسری جانب دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کے بعد قطر کی وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ جنگ بندی کے معاہدے میں پائیدار امن کے لیے طریقہ کار کے قیام کی شق شامل ہے، تاہم اس کی تفصیلات اب تک ظاہر نہیں کی گئیں۔







