آئی ایس پی آر کے مطابق ان جوابی کارروائیوں میں درستگی پر مبنی فائرنگ، فضائی اور زمینی حملے اور بارہہ وار جسمانی چھاپے شامل تھے جن کا ہدف افغان حدود میں قائم طالبان کیمپ، پوسٹس، تربیتی مراکز اور دہشت گردی کی معاون نیٹ ورکس بنائے گئے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ کارروائیوں کا بنیادی مقصد پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی اور کارروائی کے لیے استعمال ہونے والی سہولت گاہوں کو ختم کرنا تھا اور اس سلسلے میں سول آبادی کے تحفظ اور غیر ضروری جانی و مالی نقصان سے بچنے کے لیے ہر ممکن احتیاط برتی گئی۔

بیان کے مطابق ان آپریشنز کے دوران مصدقہ انٹیلی جنس اور زمین پر کارروائی کے نتیجے میں 200 سے زائد افغان طالبان اور خارجی دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔ مزید کہا گیا کہ پاک فورسز کی جوابی کارروائی میں متعدد دشمنی مقامات کو تباہ کیا گیا اور سرحد کے طول و عرض میں 21افغان پوزیشنز عارضی طور پر قابض کر لی گئیں۔ ان مقامات میں طالبان فورسز کے ہیڈ کوارٹرز، تربیتی کیمپ، معاون نیٹ ورکس اور پناہ گاہیں شامل تھیں جو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ اقدامات کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

آئی ایس پی آر نے یہ بھی اطلاع دی کہ فائرنگ کے تبادلے اور آپریشنز کے دوران پاک فوج کے 23 بہادر سپوت شہید ہوئے جبکہ 29 افسران و جوان زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد دی گئی اور زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ادارے نے شہداء کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی فوری اور مکمل طبی بحالی کے انتظامات کی یقین دہانی کرائی۔


ترجمان نے کہا کہ پاک مسلح افواج نے خود دفاع کے حق کا بھرپور استعمال کیا اور جارحانہ کارروائی کرنے والوں کو فیصلہ کن طور پر پسپا کیا۔ آپریشن میں استعمال ہونے والی درستگی پر مبنی فائرنگ اور نشانہ بازی کے ذریعے سرحد پار سے آپریشن انجام دینے والے عناصر کو سخت نقصان پہنچایا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ خاص طور پر فتنۃ الخوارج (FAK)، فتنۃ الہندوستان اور آئی ایس کے پی/داعش سے منسلک عناصر کے خلاف کارروائیاں کی گئیں جن کے نتیجے میں خطے میں ان کے اقدامات کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا گیا۔

آئی ایس پی آر نے ان کارروائیوں کو "سرحدی سالمیت اور عوام کی حفاظت کے لیے ناگزیر اور مناسب" قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاک افواج اپنے عوام اور سرحدی حدود کے دفاع میں ہر وقت چوکس اور پُرعزم ہیں اور وہ ان عناصر کو ہر جگہ شکست دینے کے لیے پرعزم ہیں جو اس علاقے میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں۔

بیان میں طالبان حکومت سے بار بار مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم خطرناک دہشت گرد گروہوں، خصوصاً فتنۃ الخوارج اور ان کے معاون نیٹ ورکس کو فوری اور قابلِ تصدیق طور پر غیر فعال کرے، ورنہ پاکستان اپنی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے ضرورت کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کا حق استعمال کرتا رہے گا۔ آئی ایس پی آر نے زور دیا کہ پاک افغان علاقائی امن و سلامتی کے مفاد میں تعمیری سفارت کاری اور مذاکرات کی راہ اختیار کی جا سکتی ہے مگر افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جانا چاہیے۔

ترجمان نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب طالبان حکومت کے بعض اعلیٰ نمائندے بھارت کے دورے پر تھے، اور بیان میں بھارت کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ خطے میں دہشت گردی کو تقویت دینے والی قوتیں اس وقت بھی سرگرم ہیں۔ اسی بنیاد پر آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی بین الاقوامی یا علاقائی طاقت کی سرپرستی میں کام کرنے والے عناصر کو برداشت نہیں کرے گا۔


آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ آپریشنز کے دوران حاصل شدہ انٹیلیجنس کی بنیاد پر متعدد تربیتی کیمپ، پوسٹس اور معاون نیٹ ورکس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا اور سرحدی کنارے دشمن کی پوزیشنز پر آپریشنل گہرائی تک کاروائی کی گئی، تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کی منصوبہ بندی کا خامہ خشک کر دیا جائے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاک فوج نے آپریشن کے دوران مقامی سول آبادی کے تحفظ کو اولین ترجیح دی، شہری علاقوں میں ممکنہ ضمنی نقصان سے بچانے کے لیے اضافی احتیاطی اقدامات کیے گئے اور ہنگامی طبی اور انسانی معاونت کے انتظامات کو یقینی بنایا گیا۔

آئی ایس پی آر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ تحمل اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں، حکومت اور افواج کے ساتھ کھڑے رہیں اور وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی باضابطہ سرکاری اطلاعات پر عمل کریں۔ ساتھ ہی ادارے نے کہا کہ واقعے کی مزید تفصیلی تحقیقات جاری ہیں، شواہد اور انٹیلیجنس کی بنیاد پر جو بھی مزید اطلاعات یا کارروائیاں ضروری ہوں گی انہیں شفاف انداز میں انجام دیا جائے گا اور عوام کو مطلع کیا جائے گا۔