یہ اطلاع منگل کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں دی گئی، جو اس آپریشن کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی بحری نیٹ ورک کی جانب سے جاری کیا گیا۔
امریکا سمیت مختلف ممالک کے مشترکہ بحری اتحاد، کمبائنڈ میری ٹائم فورس (سی ایم ایف) کے مطابق پاک بحریہ کے جہاز نے گزشتہ ہفتے 48 گھنٹوں کے دوران دو علیحدہ کارروائیاں کیں۔ یہ آپریشن سعودی عرب کی قیادت میں قائم کمبائنڈ ٹاسک فورس 150 کی براہِ راست معاونت میں کیا گیا، جو 16 اکتوبر کو آپریشن ’’المسمک‘‘ کے تحت شروع ہوا تھا۔
بیان کے مطابق 18 اکتوبر کو یرموک کے عملے نے پہلی کشتی پر چھاپہ مارا اور دو ٹن سے زائد کرسٹل میتھ ایمفیٹامین ضبط کی، جس کی مارکیٹ مالیت تقریباً 82 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی۔ اس کے 48 گھنٹے بعد، دوسری کشتی سے 350 کلوگرام کرسٹل میتھ اور 50 کلوگرام کوکین برآمد کی گئی، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 15 کروڑ ڈالر تھی۔
بیان میں بتایا گیا کہ منشیات کو جہاز پر لا کر تجزیے اور تصدیق کے بعد ضائع کردیا گیا۔ دونوں گرفتار شدہ کشتیاں ’’بغیر قومی شناخت‘‘ تھیں، یعنی ان پر کسی ملک کا پرچم موجود نہیں تھا اور ان کی روانگی کے مقام کے بارے میں بھی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
U.S. Central Command congratulates the Saudi-led Combined Task Force 150 of Combined Maritime Forces for successfully seizing more than $972 million worth of narcotics. Over a 48-hour period, Pakistan Navy Ship Yarmook conducted boarding operations of two dhows in the Arabian…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) October 21, 2025
سعودی شاہی بحریہ کے کموڈور فہد الجوید، جو اس آپریشن کی قیادت کر رہے تھے، نے کہا کہ یہ سی ایم ایف کی تاریخ کی سب سے کامیاب کارروائیوں میں سے ایک ہے، جس نے بین الاقوامی بحری تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر سی ایم ایف کو اس کامیاب کارروائی پر مبارک باد دی۔ سی ایم ایف میں 47 ممالک کی بحری افواج شامل ہیں جو 30 لاکھ مربع میل سے زائد سمندری حدود میں منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سرگرم ہیں۔
پاکستان نیوی کے جہاز یرموک کی کمیشننگ تقریب فروری 2020 میں رومانیہ میں منعقد ہوئی تھی، جبکہ دسمبر 2020 میں اسے باضابطہ طور پر پاکستان نیوی کے بیڑے میں شامل کیا گیا۔ یہ جہاز الیکٹرانک وارفیئر، اینٹی شپ اور اینٹی ایئر مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس میں جدید خود حفاظتی نظام نصب ہیں۔
مارچ 2024 میں یرموک نے ایک ریسکیو مشن میں حصہ لیا تھا، جس میں آتشزدگی کا شکار ایرانی ماہی گیروں کی کشتی سے آٹھ افراد کو بچایا گیا۔ جولائی 2024 میں اسے بحرِ ہند میں بھی تعینات کیا گیا تھا، جہاں یہ پاکستانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کے فرائض انجام دیتا رہا۔







