یو این ایف پی اے پاکستان کے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حقائق اس بات کے متقاضی ہیں کہ آبادی کو بوجھ سمجھنے کے بجائے اسے پائیدار اور جامع ترقی کا اسٹریٹجک محرک تصور کیا جائے۔
ادارے نے آئندہ سال کے تناظر میں مطالبہ کیا کہ قومی منصوبہ بندی، مالیاتی فیصلوں اور خصوصاً این ایف سی فارمولے میں آبادی کو شامل کرنے کے طریقہ کار پر نظرِ ثانی کی جائے۔ بیان کے مطابق محض آبادی کے حجم کو پیمانہ بنانے کے بجائے ایک ایسا مستقبل بین نقطہ نظر اختیار کیا جائے جس کے تحت صوبوں کو صنفی مساوات، ماحولیاتی استحکام، صحت و تعلیم کی بہتر سہولیات اور متوازن آبادیاتی نتائج جیسے قابلِ پیمائش اہداف پر مراعات دی جائیں۔
یو این ایف پی اے کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی اصلاحات نہ صرف مالیاتی مراعات کو انسانی ترقی کے نتائج سے ہم آہنگ کریں گی بلکہ جدت، شفافیت اور جوابدہی کے عمل کو بھی فروغ دیں گی۔ اس سے آبادی سے متعلق پالیسیوں کو عوام اور کمیونٹیز کے عملی فوائد میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔
Population as Power!
— HTN World (@htnworld) December 31, 2025
By 2026, Pakistan will be the 5th most populous country with 225M people. UNFPA urges shifting focus from numbers to inclusive development, emphasizing gender equality, healthcare, education, and climate resilience to unlock the nation’s potential. pic.twitter.com/2bhLOo77Q5
ادارے نے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کی سفارشات پر واضح جوابدہی کے نظام، مقررہ ٹائم لائنز اور پائیدار مالی وسائل کے ساتھ مؤثر عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا، جس کی بنیاد مضبوط آبادیاتی ڈیٹا اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔
بیان کے مطابق پیش رفت کے باوجود پاکستان کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے جن میں زچہ و بچہ کی بلند شرح اموات، خاندانی منصوبہ بندی کی نامکمل ضروریات، کم عمری کی شادیاں، صنفی بنیاد پر تشدد اور خصوصاً دور دراز علاقوں میں معیاری تولیدی صحت کی سہولیات تک غیر مساوی رسائی شامل ہے۔
یو این ایف پی اے کے مطابق یہ مسائل شرحِ پیدائش میں سست رفتار کمی اور غیر متوازن ترقیاتی نتائج سے بھی گہرے طور پر منسلک ہیں۔






