اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بن رہا ہے اور افغان طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے اب تک چار ہزار پاکستانی افسر و جوان شہید اور 20 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں افغانستان سے کچھ نہیں چاہیے مگر جب ہمیں مسلسل اپنے جوانوں کی میتیں اٹھانی پڑ رہی ہوں تو ہم آنکھیں بند کیسے رکھ سکتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ قطر کی وزارتِ خارجہ کو علم ہو گیا تھا کہ پاکستان افغانستان کے خلاف کارروائی کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے بعد قطر نے فوری طور پر رابطہ کر کے مسئلے کے حل اور ثالثی کی درخواست کی اور وہ آپریشن جو اُس رات ہونا تھا، مؤخر کر دیا گیا۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ قطر کی وزارت خارجہ ہر گھنٹے بعد ہم سے رابطہ میں تھی۔ انہوں نے ثالثی کی کوشش کی لیکن اس کے نتیجے میں کچھ نہ نکل سکا۔ اب وہ خود بھی اس صورتحال سے نالاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ افغان طالبان کی غلط فہمی ہے کہ ہم کارروائی نہیں کر سکتے۔ اللہ نے پاکستان کو قوت دی ہے۔ لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ اپنے ہی بھائی کے گھر جا کر انہیں گھس کر ماریں۔

وزیر خارجہ نے مزید انکشاف کیا کہ ایران کے وزیرِ خارجہ نے انہیں فون کر کے پیشکش کی ہے کہ اگر پاکستان چاہے تو افغانستان، قطر، ترکی اور ایران سمیت چند ممالک مل کر بات چیت کا راستہ نکال سکتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلمان اور غیر مسلم ممالک مشترکہ حکمت عملی اپنائیں گے، تاہم خطے میں امن کے لیے افغانستان کا مستحکم ہونا سب سے اہم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین نے بھی پاکستان کے افغانستان سے متعلق مؤقف کی بھرپور تائید کی ہے، جب کہ پاکستان افغان مہاجرین کو باعزت طریقے سے واپس بھیجنا چاہتا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے اپنے غیر ملکی دوروں کے دوران یورپی حکام کو بتایا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگست میں انہوں نے کابل جا کر امیر خان متقی کے ساتھ کھڑے ہو کر افغان قیادت سے کہا تھا کہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے سرد جنگ کے دوران نیٹو کے ساتھ مل کر کردار ادا کیا تھا اور اپنے حالیہ دورے میں نیٹو ہیڈکوارٹرز میں سیکریٹری جنرل سے ملاقات بھی کی۔ اسی طرح یورپی یونین کے آٹھ ممبران سے ملاقاتیں ہوئیں۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ ماسکو اجلاس میں پاکستان کی معاشی ترجیحات پیش کی گئیں، جب کہ ایس سی او کانفرنس میں وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستان کی نمائندگی کی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 17 اور 18 تاریخ کو روس کے دورے میں صدر ولادی میر پیوٹن کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی گئی۔