انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جب پاکستان کو بیرونی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملک نے نہ صرف تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اصولی مؤقف کے مطابق مؤثر اور منظم جواب بھی دیا۔ ان کے مطابق “آپریشن بنیان المرصوص” محض ایک عسکری کارروائی نہیں تھا بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت پاکستان کے حقِ دفاع کا واضح اظہار تھا۔

اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں مسلح افواج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس دوران پاک فوج نے مؤثر حکمت عملی کے تحت دشمن کی جارحانہ سرگرمیوں کا جواب دیا اور اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور تیاری واضح طور پر دنیا کے سامنے آئی۔

اسحاق ڈار  نے مزید کہا کہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ نے غیر معمولی مہارت اور پیشہ ورانہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد دشمن طیارے مار گرائے گئے اور کئی اہم عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی زیر قیادت پاک بحریہ ہر لمحہ چوکس اور مکمل طور پر الرٹ رہی، جس نے سمندری حدود کے دفاع کو ہر ممکن طور پر یقینی بنایا۔

نائب وزیراعظم نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور خطے میں استحکام، تعاون اور سفارت کاری کو فروغ دینا چاہتا ہے، تاہم قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتا ممکن نہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان ہر قربانی کے لیے تیار ہے ، اسحاق ڈار

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کا خواب صرف اسی وقت حقیقت بن سکتا ہے جب مسئلہ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ خطے میں پائیدار امن کی کلید ہے۔

 اپنے بیان کے اختتام پر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن، مذاکرات اور باہمی احترام کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے، لیکن اگر ملک کی خودمختاری یا سلامتی کو چیلنج کیا گیا تو پوری قوم متحد ہو کر بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔