رپورٹ کے مطابق چین اس عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور پاکستان اور افغان حکومت کے درمیان دیرپا جنگ بندی کے امکانات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

پاکستانی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مذاکرات شمالی چین کے شہر اورمچی میں شروع ہوئے ہیں، تاہم اس پیش رفت پر چینی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے بھی تاحال مذاکرات کے آغاز کی نہ تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید سامنے آئی ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ پاکستانی حکام کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر مبینہ فائرنگ کے بعد 26 فروری کو ’آپریشن غضب للحق‘ شروع کیا گیا تھا۔

پاکستان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے دوران افغانستان میں فضائی حملے کیے گئے، جن میں ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو بقول حکام دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق اکتوبر 2025 سے سرحدی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہو رہا تھا، جس کے باعث یہ کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔

بعد ازاں 18 مارچ کو پاکستان نے اس آپریشن کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد اب سفارتی سطح پر رابطوں کی بحالی کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔