سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نیوز نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اب تک پاکستان نے افغان سرحد پر 20 افغان چوکیاں قبضے میں لے لیں، جہاں سے پاکستان پر حملے کیے جا رہے تھے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ڈیورنڈ لائن پر ہونے والی جھڑپوں کے بعد سرحدی علاقوں میں صورتحال تاحال کشیدہ ہے۔

افغان وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندر مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔

طالبان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان فورسز نے شمالی علاقوں میں پاکستانی فوج کی کئی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ تاہم پاکستان کی جانب سے اس بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ایک سیکیورٹی ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان سرحد کے ساتھ انگور اڈا، باجوڑ، کرم، دیر، چترال اور بارمچہ سمیت مختلف مقامات پر فائرنگ کے تبادلے ہوئے۔

ضلع کرم میں زیرو پوائنٹ پر تعینات ایک پولیس اہلکار کے مطابق سنیچر کی رات تقریباً دس بجے افغانستان کی جانب سے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ شروع ہوئی، جو مختلف مقامات تک پھیل گئی۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان آگ اور خون سے کھیل رہا ہے۔ ان کے مطابق افغان فورسز کی جانب سے شہری آبادی پر فائرنگ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان کو انڈیا کی طرح سخت جواب دیا جائے گا تاکہ آئندہ پاکستان کی طرف میلی نظر ڈالنے کی جرات نہ ہو۔

افغان صوبے کنڑ کے ضلع ناری کے علاقے ڈوکلام میں عینی شاہدین کے مطابق شام کے وقت طالبان فورسز نے پاکستانی حدود کی جانب ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے بعد دونوں جانب سے شدید لڑائی ہوئی۔

ادھر افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے ایک پریس کانفرنس میں اس کارروائی کی تفصیلات پیش کی جائیں گی۔

اس سے قبل رات کو افغانستان نے پاک–افغان سرحد کے پانچ سے چھ مختلف مقامات پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔  سیکیورٹی فورسز نے مؤثر اور بھرپور جواب دیتے ہوئے افغان حملہ آوروں کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ جوابی کارروائی کے دوران افغان فورسز اپنی لاشیں چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئیں۔


سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ بلا اشتعال حملہ اس وقت ہوا جب افغان وزیر خارجہ متقی انڈیا کے دورے پر نئی دہلی میں ہیں۔ افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب، پاکستان نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔

افغان فورسز کی جانب سے پاک–افغان سرحد پر پانچ سے چھ مختلف مقامات پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جس کا پاک فوج نے انتہائی مؤثر اور بھرپور جواب دیا۔ دشمن نے جب ہماری چوکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تو پاکستانی جوانوں نے وہی زبان میں جواب دیا جو دشمن سمجھتا ہے، گولی کا جواب گولی سے۔


جوابی کارروائی اتنی شدید تھی کہ افغان حملہ آور اپنی لاشیں چھوڑ کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئے۔

مزید پڑھیں: ڈیرہ اسماعیل خان: تربیتی سکول پر حملہ، دفاع کرتے ہوئے 6 پولیس اہلکار، امام مسجد شہید ہوگئے، آئی ایس پی آر

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک مرتبہ پھر ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کی سرحدیں کسی کے رحم و کرم پر نہیں، ہماری افواج چوکس ہیں، تیار ہیں، اور ہر قیمت پر ملک کی سالمیت کا دفاع کرنا جانتی ہیں۔

دوسری جانب کرم میں پاک افغان سرحد پر تصادم کے دوران طالبان لاشیں چھوڑ کرفرار ہوگئے، علاقہ گوی میں افغانستان نے آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا۔ تری منگل اور پیواڑ کے مقامی شہری خوفزدہ، گھروں میں محصور، پاک فوج کی مؤثر جوابی کارروائی سے دہشتگرد پسپا ہوگئے۔

پاکستان اس وقت افغانستان میں پاک افغان بارڈر کے قریب موجود خوارج اور داعش کے دہشت گرد کیمپوں اور ہائیڈ اوٹس کو  بھی انتہائی مہارت سے نشانہ بنا رہا ہے، سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان فورسز کئی علاقوں سے پسپائی اختیار کر چکی ہیں۔

پاکستان کی وزارت داخلہ کی دھمکی

وفاقی وزیر محسن نقوی نے کہا ہے کہ افغانستان کو بھی بھارت کی طرح منہ توڑ جواب دیا جائے گا تاکہ وہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہ کرے۔



 قبائلی عوام نے دہشت گردوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان کیا ہے، پشتو میں جاری کیے گئے آڈیو پیغام میں سنا جاسکتا ہے کہ پیغام رساں شخص کہہ رہا ہے کہ افغان دہشت گردوں کے خلاف وہ پاک فوج کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ‏وطن کی دفاع ہم پر فرض ہے اور ہم اس کا دفاع کرنا جانتے ہیں، ‏ہم نے پہلے بھی دہشت گردوں کو سبق سکھایا تھا اور ہم اب بھی آپ کو سبق سکھائیں گے۔

متعدد افغان فوجی ہلاک، خارجی تشکیلیں تتر بتر 

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کی جانب سے مؤثر اور شدید جوابی کاروائی سے متعدد افغان فوجی ہلاک اور خارجی تشکیلیں تتر بتر ہوگئیں۔ افغان پوسٹیں خارجیوں کو کور فائر دینے میں ناکام ہوگئی ہیں۔ 


 متعدد افغان پوسٹوں اور خارجیوں کی تشکیلوں کو بھی بھاری نقصانات کی اطلاعات ملی ہیں۔ عبوری افغان حکومت کی سر پرستی میں چلنے والے  افغانستان کے اندر خوارج اور داعش کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔


سیکیورٹی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے آرٹلری، ٹینکوں، ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ داعش اور خارجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لئے فضائی  وسائل اور ڈرونز کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔


افغان فورسز کے اُن ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جو داعش اور فتنہ الخوارج کو پناہ دیتے رہے ہیں۔

سعودی عرب کا سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار 

دوسری جانب افغان وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ پاکستان سے بدلہ لینے کے لیے کیے گئے حملے رات 12 بجے روک دیے گئے۔


بیان کے مطابق یہ حملے پاکستان کی جانب سے گذشتہ روز افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر بدلہ لینے کی غرض سے کیے گئے۔


بیان کے مطابق اگر پاکستان کی جانب سے دوبارہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی تو دوبارہ جواب دیا جائے گا۔


سعودی عرب نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔



سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گہا: ’مملکت کو پاکستان اور افغانستان کی سرحدی علاقوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور جھڑپوں پر گہری تشویش ہے۔‘