برطانیہ کے دفاعی جریدے ’کی ایرومیگزین‘ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تباہ ہونے والے رافیل طیاروں کے سیریل نمبرز BS001، BS021، BS022 اور BS027 تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈیا ان طیاروں کی تباہی کے حوالے سے سیریل نمبرز کے ساتھ کوئی واضح تصویری ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔

جریدے کے مطابق فضائی جھڑپ کے دوران پاکستان نے ملٹی ڈومین آپریشنز کے ذریعے انڈین فضائیہ کی صلاحیت کو شدید متاثر کیا، جس کے نتیجے میں انڈین پائلٹس مؤثر جواب دینے میں ناکام رہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس جھڑپ میں انڈین فضائیہ کو مجموعی طور پر چار رافیل طیاروں کے علاوہ مگ 29، ایس یو 30 اور ایک ہیرون ڈرون کا بھی نقصان اٹھانا پڑا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 10 مئی کو پاکستانی فضائیہ کے JF-17C بلاک تھری طیارے نے ادھم پور میں انڈین فضائی دفاعی نظام S-400 کو ناکارہ بنایا، جب کہ برنالا میں واقع انڈین کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے انڈین فضائیہ کو مزید دھچکا پہنچا۔

برطانوی جریدے کے مطابق اس کارروائی کے دوران پاکستانی سائبر یونٹس نے انڈیا کے تقریباً 96 فیصد سوشل نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل نظام کو متاثر کیا۔

رپورٹ میں اسے پہلا موقع قرار دیا گیا ہے جب کسی فضائیہ نے سائبر اور روایتی عسکری صلاحیتوں کو یکجا کر کے مؤثر کارروائی کی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈین چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے ایک انٹرویو میں انڈین طیاروں کی تباہی کا اعتراف کیا تھا۔

جریدے نے یہ بھی یاد دلایا کہ اس سے قبل 2019 میں آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے دوران پاکستانی فضائیہ نے انڈین مگ 21 طیارہ بھی مار گرایا تھا۔