تقریب میں پانی، زراعت اور چائے کی صنعت سمیت اہم شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے آغاز پر اتفاق کیا گیا، جسے دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
پہلی مفاہمتی یادداشت سندھ کے محکمہ بلدیات اور چینی کمپنی کے درمیان طے پائی، جس کے تحت کراچی میں پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے (ڈی سیلینیشن) کے منصوبے پر کام کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد شہر کو اضافی پانی فراہم کرنا اور شہری ضروریات کو پورا کرنا ہے۔
President @AAliZardari witnesses the signing of an MoU between MESKAY & FEMTEE Trading Company, Hunan Tea Group and Jiaolong International Technology (Hainan) on cooperation in the tea sector. pic.twitter.com/YmBfLklMHZ
— PPP Punjab (@PPPPunjabSM1) April 27, 2026
دوسرا معاہدہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے متعلق ہے، جس کے تحت جدید زرعی طریقہ کار، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے، یہ معاہدہ پاکستان کے زرعی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تیسری مفاہمتی یادداشت چائے کی صنعت کی ترقی سے متعلق ہے، جس میں پیداوار بڑھانے، معیار بہتر بنانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ اس معاہدے کا مقصد نہ صرف تجارتی روابط کو فروغ دینا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات کو بھی مزید مستحکم کرنا ہے۔
تقریب میں پاکستان اور چین کے اعلیٰ حکام، سرمایہ کاری اور تجارت سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے نمائندوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے مشترکہ منصوبوں کے ذریعے اقتصادی شراکت داری کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ یہ معاہدے نہ صرف پاکستان کی معیشت کے مختلف شعبوں میں بہتری لانے میں معاون ثابت ہوں گے بلکہ پاک چین اقتصادی تعاون کو ایک نئی جہت بھی فراہم کریں گے، جس سے خطے میں ترقی اور استحکام کو فروغ ملے گا۔







