ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان کا کہنا تھا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بیجنگ میں منعقدہ پاک-چین وزرائے خارجہ کے سٹریٹجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور میں شرکت کی۔ اس موقع پر جاری ہونے والا پاک چین مشترکہ اعلامیہ ایک جامع دستاویز ہے، جس میں سٹریٹجک، سیاسی، دفاع، سلامتی، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ثقافت اور عوامی تبادلوں سمیت تعلقات کے تمام پہلوؤں پر بات کی گئی۔
ترجمان نے کہا کہ دونوں فریقوں نے اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے ون چائنا اصول پر عزم ظاہر کیا اور تائیوان کو چین کا ناقابل تنسیخ حصہ تسلیم کیا، جب کہ چین نے پاکستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں اپنی مستقل حمایت کا اعادہ کیا۔
Weekly Press Briefing by the Spokesperson @TahirAndrabi
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) January 8, 2026
On DPM/FM-chaired meeting with FS, ex FSs, Envoys and Snr Officials at MOFA on 7th Jan. pic.twitter.com/i96nje0Sxc
چین نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور دہشت گردی کے خاتمے میں پاکستان کی اہم شراکت اور قربانیوں کو تسلیم کیا۔ دونوں ممالک نے ترقیاتی منصوبوں اور ترجیحات کو ہم آہنگ کرتے ہوئے سی پیک کے اپ گریڈ شدہ ورژن 2.0 پر اتفاق کیا، جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا اہم منصوبہ ہے۔
پاکستان اور چین نے جنوبی ایشیا میں یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کی، امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا اور تمام تنازعات کے پرامن حل کے لیے بات چیت اور مشاورت کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے چین کو جموں و کشمیر کی صورتحال اور تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا، جبکہ چین نے تصفیہ طلب تنازعہ کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔
اس کے علاوہ، دونوں فریقین نے سرحد پار آبی وسائل کے تعاون، بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے احترام اور عالمی و علاقائی سلامتی کے تحفظ پر بھی اتفاق کیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور چین نے افغان مسئلے پر قریبی رابطے برقرار رکھنے اور افغانستان میں موجود تمام دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے مزید واضح اور قابل تصدیق اقدامات پر زور دیا، تاکہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال سے روکا جا سکے اور علاقائی و عالمی سلامتی کو خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔







