7 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ میں ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی کے دوران پی اے ایف کے جنگی طیارے حوثیوں کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے اس دعوے کی تردید کردی ہے۔

وزارت اطلاعات نے عالمی میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی فوجی دستوں کی تعیناتی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کریں۔

وزارت نے کہا کہ اگر کسی فوجی تعیناتی کی ضرورت ہوئی تو اس کی تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کی جائیں گی۔

اس ہفتے کے آغاز میں وزارت اطلاعات نے سعودی عرب میں 30 ہزار سے 40 ہزار پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق رپورٹس کو بھی قیاس آرائی پر مبنی قرار دیا تھا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں طے شدہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فوری تعیناتی کی جانب بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔

7 اگست کو ہونے والے معاہدے میں اجتماعی دفاع کی شقیں شامل ہیں اور ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا گیا ہے۔

پیر کو ریاض میں اتحاد کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شریک ممالک نے اجتماعی دفاع کی ذمہ داریاں نافذ کرنے اور اپنے انتظامات اور قومی قوانین کے مطابق طے شدہ فوجی صلاحیتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات پر اتفاق کیا۔

اجلاس میں شریک وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ سعودی افواج حوثیوں کے خلاف جنگی کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ پاکستان اور ترکیہ کی بھی خطے میں موجودگی ہے۔

بدھ کو انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی تصدیق کی تھی کہ پاکستانی فوجی پہلے سے سعودی عرب میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے وہاں تعینات ہیں اور مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یہ پیش رفت سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافے کے دوران سامنے آئی ہے۔ حوثیوں نے سعودی ہوائی اڈوں اور دیگر اہداف پر حملوں کے دعوے کیے ہیں جبکہ سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔

جمعرات کو حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی دارالحکومت کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔ سعودی حکام نے اس سے قبل ریاض سمیت دو بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر حملوں میں 3 افراد کی ہلاکت اور 36 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔ فریقین کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

پاکستان نے بارہا سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں وہ مکہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

تاہم پاکستانی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد اجتماعی دفاع اور مزاحمت کے ذریعے خطرات کو روکنا ہے۔