ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی بدستور برقرار ہے، جب کہ امریکی نگرانی میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بھی جاری ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں اعلان کیا کہ امریکا 3 نومبر کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات سے قبل ایران پر کوئی حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور بالواسطہ رابطوں کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر آئندہ چند روز میں جواب دینے کا عندیہ دیا تھا۔ عباس عراقچی نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے رابطوں اور بالواسطہ مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان رابطے جاری ہیں۔
جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکا کو اپنی تجاویز پیش کی تھیں، جنہیں امریکی فریق نے سات روزہ منصوبہ قرار دیا۔
ان کے مطابق امریکا کی جانب سے ایرانی تجاویز پر اپنا مؤقف بھی پیش کیا جاچکا ہے، جس کا ایران اس وقت جائزہ لے رہا ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ امکان ہے کہ تہران آئندہ چند روز میں امریکی مؤقف کا جواب دے دے گا۔
یوں ایک جانب امریکا کی جانب سے ایران پر مڈٹرم انتخابات تک حملہ نہ کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے تو دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔







