وزیراعظم نے سعودی عرب پر حملوں کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا تشویش ناک ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ پاکستان کے لیے اہم ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
وزیراعظم نے سعودی افواج اور اتحادی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بروقت ردعمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ سعودی دفاعی نظام نے متعدد بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرکے مزید نقصان سے بچاؤ کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے اپنے شہریوں، شہروں اور اہم تنصیبات کے دفاع کے حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ شہباز شریف نے حوثی ملیشیا پر زور دیا کہ وہ سعودی عرب پر حملے فوری طور پر بند کرے اور خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کرے۔
وزیراعظم نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے، پاکستان ہر خطرے اور مشکل کی صورت میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ وزیراعظم کے بیان میں بھی اس تعاون اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے تحفظ سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو نمایاں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے بیان میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان واقعات میں 3 افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے۔
سعودی حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق حملوں کے بعد جانی نقصان اور ہوائی اڈوں کی سیکیورٹی سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ایسے واقعات میں شہریوں کے تحفظ، فضائی آمدورفت کے تسلسل اور اہم تنصیبات کی حفاظت کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
سعودی عرب پر حملوں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کا بیان پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی تعلقات اور دفاعی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ حملوں کے خاتمے اور خطے میں استحکام کے لیے بھی زور دیتا ہے۔







