انہوں نے کہا کہ کئی برسوں سے اس شعبے پر کام جاری ہے، تاہم اب بھی بہت گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کا تاریخی دوست ہے اور 2024 میں چین میں بزنس ٹو بزنس فورم منعقد کیا گیا جہاں دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں نے متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، جن پر اب عملی پیش رفت کے لیے کام ہو رہا ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان سے ایک ہزار طلبا کو زراعت کے شعبے میں تربیت اور کام کے لیے چینی اداروں میں بھیجا گیا ہے، اور انہیں یقین ہے کہ یہ طلبا واپس آ کر پاکستان میں زرعی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے مصنوعی ذہانت، برآمدات اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں ترقی کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان کا تعلق خاندان جیسا ہے اور یہ رشتہ کسی ایک دن میں قائم نہیں ہوا۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ شی جن پنگ پاکستان کا دورہ کریں اور وہ ہمارے لیے نہایت معزز مہمان ہوں گے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ اس وقت ملک میں افراط زر 4.5 فیصد پر آ چکی ہے، پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد ہے، برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے اور مجموعی طور پر معاشی اشاریے اب استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔