ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق یہ ترمیم مکمل پارلیمانی طریقہ کار کے تحت دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی، جو پاکستان کے جمہوری نظام کا حصہ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی دیگر پارلیمانی جمہوریتوں کی طرح پاکستان میں قانون سازی اور آئینی ترامیم عوام کے منتخب نمائندوں کا مکمل حق اور اختیار ہیں، جن کے فیصلوں کا احترام جمہوریت کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔
🔊PR No.3️⃣6️⃣1️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣5️⃣
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) November 30, 2025
Pakistan rejects the baseless statement by the Office of the High Commissioner for Human Rights
🔗⬇️https://t.co/BBKp2uSShO pic.twitter.com/PpW5ZAZOtg
ترجمان نے واضح کیا کہ 27ویں آئینی ترمیم آئینِ پاکستان میں درج تمام قانونی و جمہوری تقاضوں کے مطابق منظور کی گئی۔
پاکستان نے ایک بار پھر انسانی حقوق، انسانی وقار، بنیادی آزادیوں اور قانون کی بالادستی کے فروغ اور تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا، جو آئینِ پاکستان میں واضح طور پر درج ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے کام کو اہمیت دیتا ہے، تاہم افسوس ہے کہ جاری بیان میں پاکستان کا مؤقف اور زمینی حقائق کو نظرانداز کیا گیا۔
پاکستان نے ہائی کمشنر پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کی پارلیمان کے خودمختار فیصلوں کا احترام کریں اور ایسے بیانات سے گریز کریں جو سیاسی جانب داری یا غلط فہمیوں پر مبنی ہوں۔







