عالمی خبررساں ادارے بی بی سی اردو کے مطابق مشتاق احمد خان گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے، جسے اسرائیلی فورسز نے حراست میں لے لیا تھا۔


پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اردن کی حکومت کے تعاون سے امید ہے کہ آئندہ چند روز میں واپسی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔


دفترِ خارجہ نے اردن کی حکومت کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی سلامتی اور جلد از جلد رہائی کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔


وزارتِ خارجہ کے مطابق ایک دوست یورپی ملک کے سفارتی ذرائع سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان اسرائیلی تحویل میں محفوظ اور صحت مند ہیں۔


مزید پڑھیں: ’سینیٹرمشتاق احمد خان کو واپس لاؤ‘ غزہ مارچ کے شرکاء نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کردیا


ترجمان نے بتایا کہ مقامی قانونی تقاضوں کے مطابق انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا اور ملک بدری کے احکامات جاری ہونے کے بعد ان کی وطن واپسی کا عمل تیز کیا جائے گا۔


واضح رہے کہ اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا کی کشتیوں سے حراست میں لیے گئے 470 افراد کو ڈی پورٹ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔


یہ فلوٹیلا بدھ سے جمعے کے درمیان روکی گئی تھی، جس میں 500 سے زائد افراد سوار تھے جن میں اطالوی سیاستدان، سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان اور ایک پاکستانی شہری سید عزیر نظامی بھی شامل تھے۔


اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق اب تک چار اطالوی شہریوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے، جب کہ باقی افراد کی ڈی پورٹیشن کا عمل جاری ہے۔