ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ باجوڑ میں حملے کے معاملے پر افغان حکومت کو باضابطہ طور پر ڈی مارش کیا گیا ہے،پاکستان اپنے شہریوں کو نشانہ بنتا نہیں دیکھ سکتا اور دہشتگردی کے خلاف ہر ممکن اقدام کا حق رکھتا ہے۔
باجوڑ میں سکیورٹی فورسز پر حملہ: افغان نائب سفیر کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا، ترجمان دفتر خارجہ
— BBC News اردو (@BBCUrdu) February 19, 2026
مزید پڑھیے: https://t.co/7zYTQaOHo6 pic.twitter.com/xODobRMVuh
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات اور ان کے افغان روابط کا ذکر اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں بھی موجود ہے۔ پاکستان اس معاملے کو عالمی سطح پر بھی اٹھا رہا ہے اور متعلقہ فورمز بشمول پابندیوں کی کمیٹی میں بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیرِاعظم اس وقت نیویارک میں غزہ پیس بورڈ کے اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔ پاکستان نے اس فورم میں شمولیت سے قبل تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ ان کے بقول اسرائیل کی شرکت پاکستان کا بنیادی مسئلہ نہیں، پاکستان کی توجہ غزہ میں امن اور استحکام پر ہے، جبکہ مغربی کنارے کی صورتحال بھی زیرِ بحث آئے گی۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان مستقل طور پر امن اور سفارتکاری کی حمایت کرتا آیا ہے۔ صدر ٹرمپ اور وزیرِاعظم کی ممکنہ ملاقات کے حوالے سے انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تین پاکستانی فوجیوں کی افغان حراست سے رہائی اور انہیں سعودی عرب کے حوالے کیے جانے کی اطلاعات پر تاحال باضابطہ تصدیق موصول نہیں ہوئی،دوست ممالک کی جانب سے افغان طالبان حکومت کو دہشتگردی کے خلاف ذمہ داری یاد دلانا مثبت پیش رفت ہے، تاہم سعودی عرب کسی باضابطہ ثالثی میں شامل نہیں۔
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ سارک کو بھارت نے غیر فعال بنا رکھا ہے، تاہم بنگلہ دیش کی نئی حکومت نے تنظیم کو فعال بنانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے نتائج برآمد ہوں گے







