تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے عازمین حج کے لیے کیے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سال پاکستان نے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم لاگت پر بہترین حج سہولیات فراہم کی ہیں۔
مکہ مکرمہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس سال سرکاری حج پیکیج کی لاگت ساڑھے 11 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حج آپریشن کے ڈیجیٹل اور انتظامی نظام کو مؤثر انداز میں فعال بنایا گیا ہے تاکہ اللہ کے مہمانوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عازمین حج کے لیے رہائش، معیاری کھانے پینے اور دیگر تمام ضروری سہولیات کو یقینی بنایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حجاج کرام کے لیے مثالی طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جن میں فزیوتھراپسٹس، ڈینٹل سرجنز اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوبیس گھنٹے ایمبولینس سروس شامل ہے۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ بعض تکنیکی وجوہات کے باعث اس بار سعودی حکومت کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان حرمین ٹرین کے استعمال کا معاہدہ نہیں ہو سکا۔ تاہم عازمین کی سہولت کے لیے بہترین اور آرام دہ بسوں کا انتظام کیا گیا ہے، جن کے ذریعے حجاج کو مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کرایا جائے گا۔
سرکاری حج اسکیم میں رہائشی سہولیات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ بعض عازمین نے علیحدہ کمروں کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر اضافی دو لاکھ روپے فیس کے عوض انہیں الگ رہائش فراہم کر دی گئی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان شاء اللہ اس سال عازمین حج خوشگوار اور پُرسکون ماحول میں حج کی سعادت حاصل کریں گے۔






