سرکاری ذرائع کے مطابق ابتدائی جھڑپیں چمن شہر سے تقریباً 15 کلومیٹر دور روغانی کے علاقے میں صبح کے وقت شروع ہوئیں،اس وقت صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
دونوں ممالک کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان پیش آنے والے ان واقعات کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔ مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور علاقے میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
چمن ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اویس نے رابطے پر بتایا کہ اب تک کسی زخمی کو اسپتال منتقل نہیں کیا گیا، جس سے فوری طور پر کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
مزید پڑھیں: جنگ کے خاتمے کے لیے وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کے کردار کو سراہتے ہیں، ایرانی سفیر
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں بھی پاک افغان سرحد کے قریب مختلف علاقوں سے فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مقامیوں کے مطابق لغڑئی، چارمنگ اور سلارزئی کے علاقوں میں وقفے وقفے سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
مقامی افراد نے بتایا کہ کچھ گولے آبادی کے قریب گرے تاہم خوش قسمتی سے فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ایک مقامی پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے۔
لغڑئی سے قبائلی رہنما ملک شاہین نے بتایا کہ حالیہ جھڑپوں کے بعد ایک بار پھر گولے آبادی کے قریب گرے ہیں، تاہم اب تک کسی ہلاکت یا زخمی کی اطلاع نہیں ملی، سلارزئی اور چارمنگ کے بعض بازاروں میں بھی گولے گرنے کے واقعات پیش آئے۔
واضح رہے کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں بار بار ہونے والی اس نوعیت کی جھڑپیں خطے میں امن و امان کی صورتحال کے لیے تشویش ناک ہیں، صورتحال کو قابو میں رکھنے اور کسی بھی بڑے واقعے سے بچنے کے لیے دونوں جانب سے رابطے جاری ہیں۔
مزید پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے جبکہ سیکیورٹی ادارے مکمل الرٹ ہیں اور سرحدی علاقوں میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔







