خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ جانی نقصان رپورٹ ہوا ہے، جہاں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق 25 مارچ سے جاری بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 30 افراد جاں بحق اور 85 زخمی ہوئے۔ اموات میں 20 بچے، پانچ خواتین اور پانچ مرد شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں بھی بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

حکام کے مطابق شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد علاقوں میں گھروں کی چھتیں اور دیواریں گر گئیں، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ صوبے کے بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ، پشاور، نوشہرہ، باجوڑ، لکی مروت، کرم، ہنگو، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، دیر اپر، بٹگرام، شمالی وزیرستان اور ٹانک سمیت کئی اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک صوبے میں 140 گھروں کو نقصان پہنچا ہے، جن میں 115 کو جزوی جبکہ 25 کو مکمل طور پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ فصلوں اور دیگر املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے سروے جاری ہے۔

ادھر بلوچستان میں بھی بارش اور برفباری کے باعث صورتحال خراب رہی۔ حکام کے مطابق کوئٹہ، کچھی، ژوب، زیارت اور قلعہ سیف اللہ میں چھتیں گرنے کے واقعات پیش آئے، جن میں مزید افراد جاں بحق ہوئے۔ صوبے میں مجموعی اموات کی تعداد 9 تک پہنچ گئی ہے جبکہ متعدد اضلاع میں فصلوں اور املاک کو شدید نقصان ہوا ہے۔

دوسری جانب پنجاب میں بھی آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات رپورٹ ہوئے۔ لاہور میں دو افراد جاں بحق اور 18 زخمی ہوئے، جبکہ سرگودھا اور چنیوٹ میں بھی اموات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ساہیوال میں ایک خاتون اور ایک بچہ زخمی ہوئے۔

ریسکیو ادارے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور متاثرین کو فوری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ خراب موسم کے پیش نظر غیر ضروری سفر سے گریز کریں، کمزور عمارتوں سے دور رہیں اور سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات اور الرٹس پر سختی سے عمل کریں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ایسے شدید موسمی واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔