مزارِ قائد پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ آج گورنر سندھ اور صوبائی کابینہ کے ارکان کے ہمراہ مزارِ قائد پر حاضری دی اور ملک کی ترقی، خوشحالی، استحکام اور سلامتی کے لیے دعا کی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اتحاد، یقین اور نظم و ضبط کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا،ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جب بھی پاکستان کو کسی خطرے کا سامنا ہوا، قوم نے متحد ہو کر دشمن کو واضح پیغام دیا۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کو میلی نظر سے دیکھنے کی کوشش کی گئی تو پوری قوم یکجا ہوگئی۔ نوجوانوں سمیت معاشرے کے ہر طبقے کو ملک کے استحکام اور ترقی کے لیے متحد رہنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے ہر ملک میں مسائل موجود ہیں اور پاکستان بھی مختلف چیلنجز سے گزر رہا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی نظام ناکام ہوچکا ہے۔ مسائل کا حل جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی تلاش کیا جاسکتا ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ صوبوں کی تشکیل یا نئے صوبوں کے قیام کی بحث کوئی نئی بات نہیں، یہ معاملہ ایک عرصے سے زیر بحث ہے اور آئین میں اس حوالے سے طریقہ کار واضح طور پر موجود ہے۔ اگر کسی کو نئے صوبے کے قیام کا مطالبہ کرنا ہے تو اسے آئینی اور جمہوری طریقے سے آگے بڑھنا ہوگا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سندھ کے حوالے سے کوئی ایڈونچرزم کرنا چاہتا ہے تو اسے سندھ اسمبلی میں قرارداد لانا ہوگی، سندھ کے معاملات کا فیصلہ آئین اور جمہوری اداروں کے ذریعے ہی ہوگا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کی تاریخ، ثقافت اور شناخت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بہت سے لوگ آئے، مختلف دعوے کیے اور بعض لوگ بیرونِ ملک چلے گئے، لیکن سندھ کی سرزمین اپنی جگہ موجود ہے اور سندھ کے عوام اپنے صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے حوالے سے بحث کرنی ہے تو ضرور کی جائے، ہم ہر آئینی اور سیاسی بحث کے لیے تیار ہیں، تاہم سندھ حکومت کی توجہ صوبے میں عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی کاموں پر مرکوز ہے۔ حکومت صوبے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور عوام کی خدمت جاری رکھے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں سندھ کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ نے پاکستان کے قیام کے مطالبے کی حمایت میں تاریخی قدم اٹھایا تھا، 10 اکتوبر 1938 کو سندھ میں عیدگاہ میدان کے حوالے سے قرارداد پیش کی گئی، جبکہ قیامِ پاکستان کے بعد بھی سندھ اسمبلی نے پاکستان کے حق میں اپنی تاریخی وابستگی کا اظہار کیا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں سندھ کی سیاسی جدوجہد اور قربانیوں کو ہمیشہ نمایاں مقام حاصل رہے گا، سندھ نے پاکستان کے لیے صرف سیاسی سطح پر کردار ادا نہیں کیا بلکہ ملک کی ترقی، دفاع اور استحکام میں بھی صوبے کے عوام نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی جوہری طاقت کے بانی ہیں، بھٹو نے مشکل ترین حالات میں بھی اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا اور شہادت قبول کی مگر گھٹنے نہیں ٹیکے۔

انہوں نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو نے بھی ملک اور جمہوریت کے لیے قربانیاں دیں، بینظیر بھٹو نے اپنی جان قربان کردی لیکن پاکستان کی سالمیت اور جمہوری جدوجہد پر آنچ نہیں آنے دی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی مشکل ترین حالات میں ملک کی نمائندگی کی اور بطور وزیر خارجہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں، مشکل وقت میں پاکستان کی سفارتی آواز دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں پہنچانا بھی قومی ذمہ داری ہے۔

فلسطین کے معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر کیے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی، فلسطینی عوام طویل عرصے سے مشکلات اور انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں اور عالمی برادری کو ان کے حقوق کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

مراد علی شاہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی بھی مذمت کی اور کہا کہ کشمیری عوام کو بھی اپنے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، پاکستان فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے قوم پر زور دیا کہ ملک کے موجودہ حالات میں سیاسی اختلافات کے باوجود قومی معاملات پر اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے، پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور ترقی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ملک کو مضبوط بنانے کے لیے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔