اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق بیرونی مالی معاونت کی یہ رقم پاکستانی کرنسی میں 649 ارب 47 کروڑ روپے کے مساوی ہے۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں اس سال پاکستان کو 33 فیصد زیادہ فنڈز موصول ہوئے۔

حکام کے مطابق نان پراجیکٹ ایڈ کی مد میں ایک ارب 51 کروڑ ڈالر حاصل ہوئے، جب کہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 77 کروڑ 32 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔ عالمی مالیاتی اداروں نے مجموعی طور پر ایک ارب 10 کروڑ ڈالر فراہم کیے، جن میں عالمی بینک کے 30 کروڑ 40 لاکھ ڈالر اور اسلامی ترقیاتی بینک کا 36 کروڑ ڈالر کا شارٹ ٹرم لون شامل ہے۔

اس کے علاوہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے ذریعے 73 کروڑ 47 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری بھی آئی۔

دستاویزات کے مطابق پاکستان کو مختلف ممالک کی جانب سے مجموعی طور پر 45 کروڑ ڈالر فراہم کیے گئے۔ سعودی عرب نے پاکستان کو 40 کروڑ ڈالر کی آئل فسیلٹی دی، ایشیائی ترقیاتی بینک نے 16 کروڑ 74 لاکھ ڈالر، جب کہ چین نے 97 لاکھ ڈالر اور امریکا نے ڈھائی لاکھ ڈالر کی گرانٹ مہیا کی۔

اقتصادی امور ڈویژن کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے لیے بیرونی مالی معاونت کا مجموعی تخمینہ 19 ارب 92 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے، جس کا بیشتر انحصار عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کی معاونت پر ہوگا۔