معاشی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک کو زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے اور مالی دباؤ کم کرنے کے لیے بیرونی معاونت کی ضرورت تھی۔

ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کو مجموعی طور پر 3 ارب ڈالرز تک کے ڈپازٹس فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے، جو آئندہ مرحلوں میں مکمل کیے جائیں گے۔ یہ رقوم پاکستان کے مرکزی بینک میں بطور ڈپازٹ رکھوائی جائیں گی تاکہ ملکی معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی عندیہ دیا تھا کہ سعودی حکومت کی جانب سے 3 ارب ڈالرز کی مالی سپورٹ آئندہ ہفتوں میں پاکستان کو موصول ہو جائے گی،یہ تعاون پاکستان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

وزیر خزانہ نے مزید بتایا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی جانب سے پہلے سے موجود 5 ارب ڈالرز کے ڈپازٹس کی مدت میں بھی توسیع پر اتفاق ہوا ہے۔ اس توسیع کے بعد یہ رقم سالانہ رول اوور کے بجائے 2028 تک برقرار رہے گی، جس سے پاکستان کو مالی استحکام حاصل ہوگا۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے مسلسل مالی معاونت پاکستان کے لیے ایک مضبوط سفارتی اور اقتصادی اعتماد کی علامت ہے، جو نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیتی ہے بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات میں بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز ملکی معیشت کو استحکام دینے، ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے اور اقتصادی اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کریں گے۔

ماہرین کے مطابق اگر اسی طرح دوست ممالک کی جانب سے سپورٹ جاری رہی تو پاکستان کی معاشی صورتحال میں مزید بہتری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، تاہم پائیدار استحکام کے لیے اندرونی معاشی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔