برطانوی اخبار فنانشنل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اس نئی بندرگاہ کی تجویز فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے قریبی مشیروں کی جانب سے امریکا کے چند حکام کو غیر رسمی طور پر پیش کی گئی ہے۔
منصوبے کے تحت پسنی بندرگاہ سے منسلک ایک نئی ریلوے لائن بنائی جائے گی، جو پاکستان کے اندرونی علاقوں سے تانبہ، سونا اور دیگر قیمتی معدنیات بندرگاہ تک لائے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پسنی پورٹ گوادر بندرگاہ سے صرف 70 میل اور ایران کی سرحد سے 100 میل دور واقع ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت اسے امریکا کے لیے ایک اسٹریٹجک مقام بنا سکتی ہے۔
اس منصوبے کی متوقع لاگت ایک اعشاریہ دو ارب ڈالرز بتائی گئی ہے، جس میں حکومت پاکستان اور امریکا کی ترقیاتی مالیاتی ایجنسیوں کی سرمایہ کاری شامل ہوگی۔ تجویز میں واضح کیا گیا ہے کہ پسنی بندرگاہ کسی قسم کا امریکی فوجی اڈہ نہیں ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ پاکستان نے امریکا کو نایاب معدنیات کی پہلی چھوٹی کھیپ بھیجی، جس میں تانبہ، اینٹیمونی اور نیوڈیمیم شامل تھے۔ ان معدنیات کی عالمی طلب اور قیمتیں اس وقت بڑھ رہی ہیں، خاص طور پر چین کی برآمدات پر پابندیوں کے بعد ان دھاتوں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں ایک امریکی کمپنی یو ایس اسٹریٹجک میٹلز نے پاکستان کی فوجی انجینئرنگ تنظیم کے ساتھ معدنیات کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں ریفائنری لگانے اور پسنی میں ممکنہ بندرگاہ کی تعمیر میں دلچسپی رکھتی ہے۔
یاد رہے کہ تاحال کسی سرکاری ذرائعے کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بات سامنے نہیں آئی۔






