اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل اصلاحات سے متعلق بین الحکومتی مذاکرات (IGN) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان غیر مستقل نشستوں میں اضافے کا حامی ہے تاکہ ویٹو پاور کے اثر کو متوازن کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ منتخب اراکین کی تعداد بڑھانے سے طاقت کا توازن مستقل اراکین کے حق میں جھکاؤ کم ہوگا۔ ان کے مطابق سلامتی کونسل میں اہم عالمی معاملات پر تعطل کی بڑی وجہ مستقل اراکین کی جانب سے ویٹو پاور کا غلط یا بے جا استعمال ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ ویٹو پاور میں توسیع یا نئے مستقل اراکین کو یہ اختیار دینا مسائل کو مزید بڑھائے گا، اس لیے پاکستان اس کی اصولی طور پر مخالفت کرتا ہے۔
Security Council reform must be comprehensive and addressed as a single undertaking, including the question of veto, which is intricately linked to the other four clusters. We oppose deferring this issue or addressing it in isolation. We have repeatedly heard from colleagues… pic.twitter.com/nz1klxc6e4
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) April 14, 2026
انہوں نے بتایا کہ سلامتی کونسل اصلاحات پر باضابطہ مذاکرات 2009 سے جاری ہیں، جن میں رکنیت کی اقسام، ویٹو پاور، علاقائی نمائندگی، کونسل کے حجم اور اس کے طریقہ کار جیسے اہم نکات شامل ہیں۔
پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اٹلی اور پاکستان کی قیادت میں قائم ’یونائٹنگ فار کنسینسس‘ گروپ مستقل نشستوں میں اضافے کے خلاف ہے، جبکہ بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل G-4 گروپ مستقل نشستوں کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔
متبادل تجویز کے طور پر یونائٹنگ فار کنسینسس گروپ نے طویل المدت کے لیے منتخب ہونے والی نشستوں کا نیا ماڈل پیش کیا ہے، جس میں دوبارہ انتخاب کی گنجائش بھی ہو۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ ویٹو پاور آج کے دور میں ایک فرسودہ تصور بن چکا ہے اور اس کے خلاف عالمی سطح پر مضبوط رائے موجود ہے، اس کے باوجود اس اختیار کو بڑھانے کی تجاویز دی جا رہی ہیں، جو ایک تضاد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات جامع ہونی چاہئیں اور ویٹو پاور سمیت تمام معاملات کو ایک ساتھ حل کیا جانا چاہیے، جبکہ اس کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی بڑھانے کی ضرورت ہے۔







