دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق مذہبی شخصیات سے زبردستی ذاتی کوائف، تصاویر اور مسلکی وابستگیوں کا حصول منظم ہراسانی کے مترادف ہے، جس کا مقصد عبادت گزاروں میں خوف پھیلانا اور انہیں اپنے مذہب پر آزادانہ عمل سے روکنا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات انڈین قابض حکومت کے ہندوتوا نظریے کے تحت فروغ پانے والی ادارہ جاتی اسلاموفوبیا کے ایک وسیع تر سلسلے کا حصہ ہیں۔ مساجد اور مسلم علما کو نشانہ بنانا ان پالیسیوں کے امتیازی اور فرقہ وارانہ کردار کو بے نقاب کرتا ہے۔

پاکستان نے اس امر پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو بغیر خوف، جبر اور امتیاز کے اپنے مذہب پر عمل کرنے کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار جاری رکھے گا اور کشمیر میں مذہبی جبر، امتیاز اور عدم برداشت کی ہر شکل کے خلاف آواز بلند کرتا رہے گا۔