ترجمان کے مطابق متحدہ عرب امارات پر حملوں کے حوالے سے پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس میں بین الاقوامی انسانی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے اصول شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جوہری تنصیبات کو کسی بھی صورت میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے اس ہفتے بھی مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے پرامن حل، مکالمے کے فروغ اور دیرپا استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے دو مرتبہ ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

ان کے مطابق ان رابطوں میں دوطرفہ تعاون کے علاوہ خطے اور عالمی صورتحال، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں جاری پیش رفت اور پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اس سلسلے میں متحرک رہے اور مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

ان کے مطابق 18 مئی کو اسحاق ڈار نے قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ محمد بن عبدالعزیز الخلیفی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جب کہ 17 مئی کو مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعتی اور 16 مئی کو ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے رابطہ کیا، جن میں علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس ہفتے ایران کے دو اہم دورے کیے، 16 اور 20 مئی کو، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور دوطرفہ امور پر بات چیت کی۔

واضح رہے کہ اس بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے فیلڈ مارشل کے ممکنہ دورۂ ایران کے حوالے سے کہا کہ فیلڈ مارشل ایران کا دورہ کر رہے ہیں یا نہیں، اس کی نہ تصدیق کرتے ہیں اور نہ ہی تردید۔