سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، برطانوی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی ترقی بیرونیس چیپمین، اراکین پارلیمنٹ، کاروباری شخصیات اور دیگر معززین بھی موجود تھے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ان اصلاحات کا مطالبہ کاروباری طبقے اور عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے کر رہے تھے۔ سرمایہ کار، صنعتکار اور تاجر برادری پیچیدہ قوانین، غیر ضروری ضوابط اور طویل طریقہ کار سے پریشان تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ریگولیٹری فریم ورک کا اجرا ایک کوانٹم جمپ کی حیثیت رکھتا ہے، جس سے کاروباری برادری اور عوام کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے۔ وزیراعظم نے معاون خصوصی ہارون اختر اور ان کی ٹیم کو ان اصلاحات پر خراج تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ملکی معیشت نازک صورتحال سے دوچار تھی، پالیسی ریٹ معیشت کو مفلوج کر چکا تھا، مہنگائی بے قابو اور کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں، جب کہ بیرونی سرمایہ کاری رک چکی تھی اور ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے بہتر حکمت عملی، ٹیم ورک اور انتھک محنت کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کیا اور آج الحمدللہ پاکستان معاشی بحران سے نکل چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشی اشاریے بہتر ہو چکے ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور پشاور سے کراچی تک معاشی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 بلین ڈالر کی قسط کی منظوری بہتر پالیسیوں کا اعتراف ہے، جس سے آئندہ دنوں میں ملکی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو برسرِ روزگار کرنے کے لیے فنی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے، جب کہ آسان کاروبار اسکیم کے تحت ہزاروں نوجوان مستفید ہو رہے ہیں۔ فنی تربیت سے نوجوانوں کو اندرون و بیرون ملک روزگار کے مواقع میسر آئیں گے، جس سے بیروزگاری میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ادارہ جاتی فریم ورک کو بہتر بنا رہی ہے، تعلیم، زراعت، صنعت، صحت اور سوشل سیکٹر سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل کا ادراک ہے اور حکومت ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر نے کہا کہ حکومت مختلف شعبوں میں اصلاحات متعارف کرا رہی ہے، یہ صرف ایک پالیسی نہیں بلکہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ ترقیاتی ریاست جدت، مقابلہ اور ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہے، نہ کہ لال فیتہ۔

برطانوی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی ترقی بیرونیس چیپمین نے کہا کہ ریگولیٹری اصلاحات کی تقریب میں شرکت ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ پاکستان بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال اور سرمایہ کاری کے لیے ایک بہترین ملک ہے، دونوں ممالک تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیشنل ریگولیٹری اصلاحات کا باضابطہ افتتاح کیا۔