پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کا موقف 1967 سے آج تک واضح اور دو ٹوک ہے۔ اسرائیل ایک سفاک اور ظالم ریاست ہے اور نیتن یاہو کے ہاتھ نہتے اور مظلوم فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کے نکتۂ اعتراض پر جواب دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر اسلامی ممالک میں بھی نافذ ہے، تو کیا وہ تمام ممالک دائرۂ اسلام سے خارج ہو گئے ہیں؟
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 28 مئی 1998 کو امریکی صدر کے دباؤ اور پوری دنیا کے شدید دباؤ کے باوجود ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کی ایک روشن مثال قائم کی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اس ملک کی ماں کی مانند ہے اور ملک کے دفاع و سلامتی کے لیے ہم کسی کے درس کے محتاج نہیں، کیونکہ ہم پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کے محافظ ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی باگ ڈور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ میں ہوتے ہوئے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔ کوئی میلی آنکھ سے پاکستان کی طرف دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ معرکۂ حق اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جو میلی آنکھ سے دیکھے، ہم وہ آنکھ نکال لیتے ہیں۔ اس لیے ہمیں کوئی بزدلی یا غفلت کا طعنہ نہیں دے سکتا۔
انہوں نے کہا کہ آرام دہ اور ٹھنڈی جگہوں پر بیٹھ کر تقاریر کرنے والوں کو فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم، قتل و غارت اور تباہی کا حقیقی اندازہ نہیں۔ پاکستان سمیت عالمِ اسلام کے آٹھ ممالک نے اس ظلم کو روکنے کے لیے عملی قدم اٹھایا ہے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اگر خدانخواستہ پاکستان غزہ امن بورڈ کا حصہ نہ بنتا تو یہی اپوزیشن تقاریر کر رہی ہوتی کہ پاکستان تنہا رہ گیا ہے اور ہماری سفارت کاری ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو غزہ امن بورڈ میں مرکزی کردار ملا ہے، جو ہماری کامیاب سفارت کاری کا واضح ثبوت ہے، اور اس پر خوشی منانی چاہیے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ پاکستان کے غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کو غلط قرار دے رہے ہیں، وہ یہ بتائیں کہ کیا سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، کویت اور مراکش ہمارے دوست اور مسلمان ممالک نہیں، جو اس بورڈ کا حصہ ہیں؟
وفاقی وزیر نے کہا کہ نہتے اور مظلوم فلسطینیوں کی تکلیف کا احساس کیا جائے، جہاں صبح و شام آسمان سے بارود برستا تھا۔ آج پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک کی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی ہے، جسے فلسطینی عوام بھی سراہ رہے ہیں، اور آج وہ نسبتاً پُرامن زندگی گزار رہے ہیں۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ہر کارکن اسلام کا محافظ ہے اور ہم کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جو اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم ﷺ کی ناراضگی کا باعث بنے۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد کئی اسلامی ممالک میں نافذ ہے، تو کیا وہ تمام ممالک دائرۂ اسلام سے خارج سمجھے جائیں گے؟






