پمز ہسپتال میں زیر تعمیر نئے ٹراما سینٹر کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ 6 ارب روپے کی لاگت سے بننے والا جدید ٹراما سینٹر جلد مکمل کرلیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پمز پر مریضوں کا دباؤ بہت زیادہ ہے اور راولپنڈی، اسلام آباد کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر سے بھی مریض یہاں آتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ صرف بڑے ہسپتالوں کی تعمیر کافی نہیں، بیماریوں سے پیشگی بچاؤ کے لیے بنیادی صحت مراکز اور مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ موجودہ پمز ایمرجنسی میں 35 بیڈز ہیں جبکہ نئے ٹراما سینٹر میں 177 بیڈز ہوں گے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہمارے وسائل محدود اور بیماریوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے، اس لیے صحت کے شعبے میں منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صحت اور تعلیم صوبوں کے پاس ہیں اور وہیں رہنی چاہئیں، تاہم آبادی سے متعلق معاملات اور قومی نصاب پر وفاق میں بات کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلی محلے کی صفائی، صاف پانی اور بنیادی صحت کی ذمہ داری منتخب بلدیاتی نمائندوں کی ہے، اگر مقامی ادارے مضبوط ہوں تو بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ترقی یافتہ دنیا نے 500 سال پہلے وہ کام کر لیے جو ہم آج شروع کر رہے ہیں۔ “لندن، نیویارک اور شنگھائی ایک دن بھی میئر کے بغیر نہیں چل سکتے، یہاں ایسا مؤثر نظام ہی نہیں۔”