تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بنوں میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ انتہائی قابلِ مذمت ہے، جہاں معصوم شہریوں کو شہید کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اب تمام سیاسی اور قومی قوتوں کو متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑنی ہوگی تاکہ اس ناسور کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکے۔

وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے انڈیا اور افغانستان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں شکست کے بعد بھی وہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے عناصر کو شکست دی جائے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے ہر صوبے میں امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق انڈیا کی جانب سے آزاد کشمیر میں امن خراب کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، تاہم ایسے عناصر موجود ہیں جو انڈیا کے ایما پر آزاد کشمیر کے عوام کی قربانیوں کو فراموش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آج بھی ظلم و ستم جاری ہے، کشمیری قیادت جیلوں میں قید ہے، جب کہ کشمیری عوام کی قربانیوں کی ایک طویل داستان ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف سرگرم کسی بھی گروہ کے روابط اگر انڈیا سے ثابت ہوں تو ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور فیصلہ کن کارروائی ہونی چاہیے