اقوامِ متحدہ کی تازہ رپورٹ میں بھی افغان طالبان کے بعض دہشت گرد گروہوں کے ساتھ روابط کی تصدیق کی گئی ہے۔
باجوڑ آپریشن میں 19 اکتوبر کو سیکورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران چار دہشت گرد مارے گئے جن میں تین کا تعلق افغانستان سے تھا۔ ان میں ملا صدام عرف حذیفہ شامل تھا، جو قندوز صوبے کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ ملا صدام کی تعزیتی تقریبات مقامی سطح پر قندوز میں اور بعد ازاں 26 اکتوبر کو فرانس کے شہر رینز میں بھی منعقد ہوئیں، جن کی معلومات سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد متعلقہ پوسٹس ہٹا دی گئیں۔
رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ بعض افغان معاشرتی حلقے دہشت گردانہ رویے کو معمول سمجھنے لگے ہیں، حتیٰ کہ بیرونِ ملک مقیم بعض افراد بھی ایسے عناصر کے لیے تعزیتی رویّے کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔
اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اپریل تا ستمبر 2025 کے دوران مارے گئے دہشت گردوں میں شناخت ہونے والے 267 افراد افغان شہری تھے۔ بعض رپورٹس کے مطابق حالیہ دراندازیوں میں 70 تا 80 فیصد دہشت گرد افغان نژاد ہیں اور افغانستان میں 60 سے زائد ٹی ٹی پی تربیتی کیمپ سرگرم بتائے گئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹ نے بھی افغان طالبان کی جانب سے مختلف دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی یا سہولت کاری کے شواہد ظاہر کیے ہیں، جن میں تحریکِ طالبانِ پاکستان، داعش خراسان، القاعدہ، مشرقی ترکستان اسلامی تحریک اور ترکستان اسلامی پارٹی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے ہزاروں عناصر افغانستان میں موجود اور بعض معاملات میں افغان حکام سے عسکری و مالی روابط رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کے درمیان رابطے اور جنوبی افغانستان کے بعض تربیتی مراکز میں مشترکہ سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس مجموعی منظرنامے کو دوحہ معاہدے کی روح کے خلاف بھی قرار دیا گیا ہے، کیونکہ معاہدے میں افغان فریق نے اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ کیا تھا۔
پاکستانی حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ افغان انتظامیہ اپنی سرزمین دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے قابلِ تصدیق اقدامات کرے، اور بیرونِ ملک حکومتوں بشمول فرانس سے بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی حدود میں دہشت گردی کی حمایت یا پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کریں۔







