منصوبے کے پہلے مرحلے میں شہر بھر میں 10 ہزار ای بائیکس اور 300 ڈاکنگ و چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔ اس اقدام کے ذریعے شہریوں کو اہم رہائشی اور تجارتی علاقوں سے قریبی پبلک ٹرانسپورٹ اسٹیشنز تک آسان اور کم لاگت سفری سہولت میسر آئے گی۔
محکمہ ہاؤسنگ کے ترجمان کے مطابق یہ منصوبہ لاہور میں جدید لاسٹ مائل کنیکٹیویٹی نظام کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا، جس کے تحت شہری موبائل ایپ کے ذریعے چند سیکنڈز میں ای بائیک حاصل کر سکیں گے۔
منصوبے کے مطابق 10 ہزار ای بائیکس کے استعمال سے شہر میں سالانہ ہزاروں ٹن کاربن اخراج میں کمی متوقع ہے، جب کہ ٹریفک کے دباؤ، ایندھن کے اخراجات اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
ترجمان نے بتایا کہ پنجاب ہیلتھ اتھارٹی (پی ایچ اے) ڈاکنگ اور چارجنگ اسٹیشنز کے لیے جگہ فراہم کرے گا، جب کہ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ، سیف سٹی اتھارٹی اور دیگر متعلقہ ادارے بھی اس منصوبے میں شامل ہوں گے۔
سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل کی زیر صدارت اجلاس میں منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ شہریوں کے تحفظ سے متعلق تمام شرائط کو یقینی بنایا جائے اور کم عمر افراد کو ایپ کے استعمال کی اجازت نہ دی جائے۔
نورالامین مینگل نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے گرین موبلٹی وژن کے تحت ماحول دوست سفری نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس سے طلبہ، ملازمین اور عام شہریوں کو جدید اور سستی سفری سہولت میسر آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسموگ اور فضائی آلودگی میں کمی کے لیے مختلف منصوبے متعارف کرائے جا رہے ہیں اور شہر کے مختلف علاقوں میں ڈاکنگ اسٹیشنز کے لیے موزوں مقامات کا انتخاب کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کی حتمی منظوری وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے حاصل کرنے کے بعد اس پر باقاعدہ عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔







