امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایرانی طیاروں کو سہولیات فراہم کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کو بھی سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسکاٹ بیسنٹ نے ایرانی ایئرلائنز پر نئی پابندیوں کا اعلان ’سی این بی سی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ پیر کو نشر کیے گئے انٹرویو میں انہوں نے خبردار کیا کہ پابندیوں کے نفاذ کے بعد ایرانی طیاروں کو ایندھن، لینڈنگ کی سہولت یا ٹکٹ فروخت کرنے کی سہولت فراہم کرنے والے بین الاقوامی ایئرپورٹس یا آپریٹرز امریکی ڈالر کے مالیاتی نظام تک اپنی رسائی کھو سکتے ہیں۔

انہوں نے ایران کے ساتھ مالی لین دین کرنے والی کمپنیوں کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے دنیا بھر میں ایسے سہولت کاروں کی نشاندہی کی ہے جو تہران کی مدد کر رہے ہیں۔

اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ امریکا جانتا ہے کہ یہ سہولت کار کون ہیں اور وہ بھی جانتے ہیں کہ امریکا ان سے واقف ہے، اس لیے واشنگٹن انہیں روکنے کے لیے اقدامات کرے گا۔

امریکی وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے حوالے سے چین کو بھی اعتماد میں لیا ہے اور امریکی حکام اس معاملے پر چینی مالیاتی حکام سے رابطے میں ہیں۔

ان کے مطابق امریکا متعدد ممالک کے ساتھ عوامی بیانات کے بجائے ’خاموش اور پسِ پردہ بات چیت‘ کرتا ہے۔

اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ اتوار کی رات چینی نائب وزیراعظم ہی لیفینگ اور پیپلز بینک آف چائنا کے گورنر پان گونگ شینگ سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے اس معاملے پر مثبت بات چیت ہوئی۔

تاہم چینی حکومت کی جانب سے امریکی وزیر خزانہ کے اس دعوے کی فوری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔

واضح رہے کہ امریکا نے ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنے کے لیے ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت معاشی دباؤ بڑھایا ہے۔ اس سے قبل چین نے ایران کے ساتھ اپنے تعاون کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا تھا۔

ایرانی ایئرلائنز کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران کے حوالے سے جلد ایک اہم فیصلہ کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران کے معاملے پر ’فیصلہ کرنے کے مرحلے‘ میں ہیں اور مستقبل قریب میں ’بہت بڑی چیزیں‘ ہونے والی ہیں۔

انہوں نے ایران کے حوالے سے تین ممکنہ راستوں کا ذکر کیا، جن میں ایران کو تباہ کرنے کے لیے فوجی کارروائی، اس پر مزید معاشی دباؤ ڈالنا یا پھر تہران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات شامل ہیں۔

ٹرمپ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔

دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود واشنگٹن نے ایرانی قیادت کے ایک مرکزی وفد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزے جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ضروری عملہ نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کر سکے گا۔ تاہم ایرانی وفد پر نیویارک میں نقل و حرکت سمیت بعض پابندیاں عائد ہوں گی۔

تہران کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے ایرانی وفد کو ویزے دینا امریکا کی مہربانی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے میزبان ملک کی حیثیت سے واشنگٹن کی ذمہ داری ہے۔

اسی دوران ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے سات شرائط واشنگٹن تک پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے مطابق یہ شرائط قطر کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچائی گئی ہیں اور تہران اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔

محسن رضائی نے تمام سات شرائط کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم ان کے مطابق ایران کی نمایاں شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔

ایرانی حکام نے کہا ہے کہ اگر امریکا ان شرائط کو قبول کرتا ہے تو مذاکرات کی راہ دوبارہ کھل سکتی ہے، تاہم دوسری صورت میں تہران نے مزید کشیدگی کے لیے تیار ہونے کا عندیہ دیا ہے۔

یوں ایک طرف واشنگٹن ایرانی ایئرلائنز اور ایران سے منسلک عالمی سہولت کاروں پر معاشی دباؤ بڑھا رہا ہے، تو دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کے امکانات بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک اہم موقع بن سکتا ہے۔