لانگ مارچ کے ملتان پہنچنے سے پہلے ہی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اہم بریک تھرو کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے جماعت اسلامی کو بڑے عوامی ریلیف پیکج کی پیشکش کر دی ہے۔ سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر اسلام آباد میں جماعت اسلامی کا دھرنا طویل ہو گیا تو یہ نہ ہو جماعتِ اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف آپس میں مل جائیں تو حکومت کے لیے اس صورتحال کو کنٹرول کرنا مشکل ہوسکتا ہے ۔
ادھر مذاکرات کے پانچویں دور میں حکومتی وفد نے واضح کیا کہ ریلیف پیکیج پر عملدرآمد جماعت اسلامی کی ٹیکنیکل کمیٹی کی حتمی منظوری سے مشروط ہوگا۔ حکومتی وفد نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ وزیراعظم شہباز شریف کو اس معاملے پر پہلے ہی اعتماد میں لیا جا چکا ہے، اور ان کی وطن واپسی کے فوراً بعد جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت سے باضابطہ رابطہ اور ملاقات متوقع ہے۔
واضح رہے کہ حکومت نے جماعت اسلامی کی قیادت سے وزیراعظم کی امریکا سے واپسی تک مہلت بھی مانگ رکھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: احتجاجی مارچ کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل، پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی، حافظ نعیم الرحمان
جماعت اسلامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ریلیف دینے میں واقعی سنجیدگی دکھائی تو لانگ مارچ میں عارضی وقفہ کیا جا سکتا ہے، تاہم پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے تک تحریک ختم نہیں ہوگی۔ جماعت اسلامی بھی چاہتی ہے کہ معاملات ریلیف کی جانب بڑھنے چاہئیں۔
ایک روز قبل نائب امیر جماعت اسلامی اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ لیاقت بلوچ نے بھی خبردار کیا تھا کہ اگر عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو ملک بھر سے دھرنے اسلام آباد کی طرف چل پڑیں گے۔
جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات و نشریات شکیل ترابی نے برطانوی ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی وزرا نے لانگ مارچ ایک ماہ تک ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی جسے جماعتِ اسلامی نے قبول نہیں کیا۔

شکیل ترابی نے امکان ظاہر کیا ہے کہ حکومتی وزرا نے کہا ہے کہ امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی امریکا میں موجود وزیرِ اعظم شہباز شریف سے آج ٹیلی فون پر بات کروائی جا سکتی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر وزیرِ اعظم کی طرف سے کوئی ٹھوس یقین دہانی کروائی گئی تو لانگ مارچ جو اس وقت ملتان پہنچنے والا ہے، کو وہیں پر اس مدت کے لیے روکا جاسکتا ہے۔ جب تک وزیر اعظم کی طرف سے لیوی کم یا ختم کرنے کے لیے دی جانے والی ڈیڈ لائن گزر نہیں جاتی تب تک۔
سیکریٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر اسلام آباد میں جماعت اسلامی کا دھرنا طویل ہو گیا تو یہ نہ ہو جماعتِ اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف آپس میں مل جائیں تو حکومت کے لیے اس صورتحال کو کنٹرول کرنا مشکل ہوسکتا ہے ۔
شکیل ترابی نے ’پاکستان میٹرز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے کچھ چیزیں تو رکھی جارہی ہیں، وزیراعظم کا رابطہ ہوتا ہے تو اس کے بعد حتمی فیصلہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کریں گے کہ کہیں رکنا ہے یا آگے چلنا ہے۔
اسلام آباد سپرلانگ مارچ لائیو اپ ڈیٹس
انھوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کی قیادت نے حکومت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ دونوں جماعتوں کے مطالبات الگ الگ ہیں تاہم دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے موقف کی حمایت کرتی ہیں۔
یاد رہے جماعت اسلامی کا ٹرین مارچ آج ملتان پہنچے گا، اس ٹرین مارچ کی قیادت حافظ نعیم الرحمان خود کررہے ہیں۔







