میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جب پی ٹی آئی اسلام آباد جائے گی تو وہاں آئین کا سماں ہوگا، ہر طرف پاکستان کے جھنڈے ہوں گے اور فضا عمران خان کے نعروں سے گونج اٹھے گی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات سے وفاقی سطح پر متعلقہ حکام سے رابطے جاری ہیں اور حالیہ واقعات سے متعلق اپنا پیغام بھی ان تک پہنچا دیا ہے۔ متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو صورتحال کو مزید کشیدہ کریں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان کے خاندان اور پارٹی رہنماؤں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک افسوسناک ہے، جب کہ مزید گرفتاریاں صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔ اب وقت ہے کہ حالات کو مزید بگڑنے سے روکا جائے اور کشیدگی میں کمی لائی جائے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ اسلام آباد مارچ پُرامن اور سیاسی ہوگا اور پارٹی اپنے آئینی و سیاسی مطالبات کے لیے جدوجہد کرے گی۔

دوسری جانب عمران خان کی بہنوں ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی لاہور میں 30 روز کے لیے حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

لاہور کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے دونوں کی حراست کے احکامات مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کی دفعہ 3 کے تحت جاری کیے گئے۔ یہ کارروائی عمران خان کی بہن علیمہ خان کی 30 روزہ حراست کے ایک روز بعد سامنے آئی۔

مزید پڑھیں: دھاوا بولنے کی تیاری ہو رہی ہے، اس بار اسلام آباد کو بند نہیں ہونے دیں گے، محسن نقوی

عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی حراست کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کردی گئی ہے، جس میں ان کے حراستی احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے باعث سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔