جے یو آئی کی مرکزی مجلس عمومی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال اس حد تک خراب ہوچکی ہے کہ جماعت کا مرکزی اجلاس کراچی سے پشاور منتقل کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے آنے والے ارکان نے راستوں کی غیر محفوظ صورتحال کے باعث کراچی پہنچنے میں مشکلات کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ اجلاس 19 اور 20 ستمبر کو پشاور میں ہوا، جس میں ملکی و بین الاقوامی صورتحال، امن و امان اور آئندہ سیاسی حکمت عملی سمیت مختلف امور زیر غور آئے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جے یو آئی بارہا یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حکومتی رٹ کے مسائل موجود ہیں، جب کہ سندھ میں بھی اسٹریٹ کرائم اور دیگر جرائم کی صورتحال تشویش ناک ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں بینکوں اور شہریوں کو تحفظ حاصل نہیں اور خیبر پختونخوا میں وزرا کو بھی راستوں میں روکے جانے کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے اور عوام اپنے مسائل کا مداوا تلاش کر رہے ہیں، لیکن حکمرانوں کی جانب سے ان کے مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ سیاسی احتجاج کے جواب میں اسلام آباد کو کنٹینرز سے بند کرنا اظہارِ رائے اور احتجاج کے آئینی حق کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی بدامنی، معاشی مشکلات اور مہنگائی جیسے مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں صوبوں، این ایف سی ایوارڈ اور مالی وسائل سمیت نئے تنازعات کھڑے کرنا ملک کے مفاد میں نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑے قومی معاملات پارلیمنٹ میں زیر بحث آنے چاہئیں اور صوبوں کے حقوق کا تحفظ آئین کے مطابق ہونا چاہیے۔ صوبوں کے وسائل پر متعلقہ صوبوں کے عوام کا حق ہے اور جے یو آئی صوبائی حقوق کی جدوجہد آئینی دائرے میں جاری رکھے گی۔
واضح رہے کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر جے یو آئی کی مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس بھی منعقد ہوا تھا، جس میں اس معاملے پر جماعتی رائے کے تعین کے علاوہ ملک کی امن و امان کی صورتحال اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس وقت اپوزیشن ایسی پوزیشن میں نہیں کہ تحریک عدم اعتماد لا سکے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ یا غور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی وفاقی حکومت سے الگ ہوجاتی ہے تو موجودہ حکومت اقلیت کی حکومت بن جائے گی۔ اگر مستقبل میں تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تو جے یو آئی اس کا ساتھ دے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کے بغیر حکومت بننے اور چلنے کے حوالے سے سیاسی حقیقت اپنی جگہ موجود ہے، تاہم حکومت اگر حقیقی طور پر سیاسی نمائندوں کی حکومت ہو تو سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت اور معاملات کے حل کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔
سعودی عرب سے پاکستان کے دفاعی معاہدے پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس معاہدے کو مزید آگے بڑھایا جانا چاہیے اور ان کی خواہش ہے کہ اس میں مصر اور ایران سمیت دیگر مسلم ممالک بھی شامل ہوں۔
مزید پڑھیں: دھاوا بولنے کی تیاری ہو رہی ہے، اس بار اسلام آباد کو بند نہیں ہونے دیں گے، محسن نقوی
خیال رہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں، جب کہ اس کا مقصد دفاعی تعاون، تربیت، استعداد کار اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششوں کی حمایت کی، تاہم قوم کو خارجہ پالیسی اور علاقائی معاملات پر مزید آگاہ کیا جانا چاہیے۔
پی ٹی آئی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت اور شہری کا آئینی حق ہے۔ حکومت کو احتجاج کرنے والی جماعتوں سے مذاکرات کرکے سکیورٹی اور دیگر معاملات طے کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی خود بھی سیاسی طور پر فریق ہے، تاہم سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت اور رابطے کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کا ماحول پیدا ہونا ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا کہ جے یو آئی 15 اکتوبر کو ملتان میں عوامی کانفرنس منعقد کرے گی، جس کے بعد دیگر اضلاع میں بھی اجتماعات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اپنی سیاسی جدوجہد کو آئین اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھائے گی اور عوام میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔







