خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا نظامِ تعلیم اس وقت شدید بحران کا شکار ہے اور لاکھوں طلبہ بنیادی تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں۔
خط کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں ایک کروڑ پنجاب، 74 لاکھ سندھ، 50 لاکھ خیبرپختونخوا اور 34 لاکھ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں۔
صاحبزادہ وسیم حیدر نے اپنے خط میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ پاکستان تعلیم پر اپنی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کا صرف 0.8 فیصد خرچ کر رہا ہے، جو دنیا کی کم ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔
خط میں سرکاری جامعات کو درپیش مالی بحران، فیسوں میں مسلسل اضافہ، منشیات اور ہراسمنٹ کے بڑھتے واقعات، طلبہ سے غیر قانونی حلف نامے لینے اور سمسٹر سسٹم میں موجود خامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ انڈیا اور بنگلہ دیش سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں طلبہ یونینز فعال ہیں، مگر پاکستان میں طلبہ کو اس جمہوری حق سے محروم رکھا گیا ہے۔
اسلامی جمعیت طلبہ نے مطالبہ کیا کہ ملک میں فوری طور پر تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے۔ تعلیم پر جی ڈی پی کا کم از کم 4 فیصد خرچ کیا جائے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو سالانہ کم از کم 200 ارب روپے کا بجٹ فراہم کیا جائے۔
اس کے علاوہ سرکاری جامعات کی فیسوں میں کمی کی جائے۔ طلبہ یونینز بحال کر کے نوجوانوں کو جمہوری تربیت اور نمائندگی کا حق دیا جائے۔ سمسٹر سسٹم میں اصلاحات اور اساتذہ کی مؤثر جوابدہی کے لیے تھرڈ پارٹی نگرانی متعارف کرائی جائے اور ملک میں یکساں نظامِ تعلیم نافذ کیا جائے۔
خط میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں نفرت اور تقسیم کو فروغ دینے والے عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ تعلیمی ماحول کو محفوظ اور مثبت بنایا جا سکے۔
ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ نے حکومت اور متعلقہ اداروں کو مکمل تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم تعلیمی اصلاحات، طلبہ مسائل کے حل اور قومی تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے سنجیدہ اور مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔







