تفصیلات کے مطابق صدر ارشد انصاری نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافی معاشرے کا آئینہ ہوتے ہیں۔ وہ ایسے واقعات عوام اور اربابِ اختیار کے سامنے لاتے ہیں جن کی نشاندہی سے معاشرہ درست سمت میں رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مگر افسوس کہ موجودہ دور میں صحافیوں کو ان کے فرائض انجام دینے سے روکنے کے لیے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، جو انتہائی تشویشناک ہے۔

صدر لاہور پریس کلب نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سینئر صحافی اظہر عباس تھراج کو کوریج سے روکنے اور گرفتار کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ آج لاہور میں پنجاب پولیس کی جانب سے پاکستان میٹرز کے نیوز ایڈیٹر اور سینئر صحافی اظہر تھراج کو مبینہ طور پر حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

قابلِ افسوس واقعہ جناح اسپتال روڈ پر اس وقت پیش آیا جب پولیس اہلکار چند نوجوانوں کو روک کر کھڑے تھے۔

اظہر تھراج نے موقع پر ویڈیو بناتے ہوئے اہلکاروں سے نوجوانوں کو روکنے کی وجہ پوچھی، جس پر پولیس نے مبینہ طور پر روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

ذرائع کے مطابق اظہر تھراج کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تھی، جب کہ ان کی صحت اور لوکیشن کے بارے میں بھی کوئی باضابطہ معلومات سامنے نہیں آئیں، جس کے باعث صحافتی حلقوں میں شدید تشویش پھیل گئی۔

واقعے کے بعد صحافی برادری نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو مسلسل ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور اظہر تھراج کا اچانک غائب ہونا آزادیٔ صحافت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

اظہر تھراج کی گرفتاری کے بعد ڈیجیٹل میڈیا ایسوسی ایشن کے صدر انس گوندل اور دیگر عہدیداران ان کی رہائی کے لیے تھانے پہنچے۔

 تقریباً دس گھنٹے حبسِ بے جا میں رکھنے کے بعد انہیں رہا کیا گیا،تاہم ان کی گرفتاری نے متعدد اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ 

حکومت ایک جانب آزاد صحافت کی حمایت کا دعویٰ کرتی ہے، جب کہ دوسری جانب صحافیوں کی بلاجواز گرفتاریوں سے اس مؤقف کی نفی ہے۔ آخر کب تک صحافی ایسے اقدامات کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ اور جو عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، انہیں کب تک اس نوعیت کے طریقوں سے خاموش کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی؟