این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا کی جانب سے فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہ دینے کے باعث امدادی سامان کو فضائی راستے کے بجائے بحری جہاز کے ذریعے بھیجا گیا، جس کی وجہ سے امدادی سامان کی ترسیل میں آٹھ دن لگیں گے۔ اعلامیے کے مطابق انڈیا کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے نے متاثرین تک امداد کی بروقت فراہمی میں رکاوٹ پیدا کی ہے۔
امدادی سامان میں خیمے، کمبل، رضائیاں، لائف جیکٹس، کشتیاں، پانی نکالنے کے پمپس، لالٹینیں، چٹائیاں، مچھر دانیاں، بچوں کے لیے خشک دودھ، غذائی اجناس اور مختلف ادویات شامل ہیں۔
🇵🇰🤝🇱🇰Pak NDMA coordinated to send 200 Tons of Humanitarian Aid to Sri Lanka on PM’s Directives via sea cargo.Shipment contained tents, blankets, boats, life jackets, de-watering pumps, lamps, sleeping mats, mosquito nets, infant milk, RUTF, and essential medicines. pic.twitter.com/zj0pumU8E7
— NDMA PAKISTAN (@ndmapk) December 2, 2025
سامان کی روانگی کی تقریب این ڈی ایم اے کے اسلام آباد میں قائم گودام میں منعقد ہوئی، جس میں وزیرِ مملکت اظہر بلال کیانی، سری لنکا کے ہائی کمشنر، وزارتِ خارجہ کے نمائندے، این ڈی ایم اے کے حکام اور الخدمت فاؤنڈیشن کے عہدیداران شریک ہوئے۔
اظہر بلال کیانی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان مشکل کی گھڑی میں سری لنکا کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور متاثرین کی مدد کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری رہیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے آفات سے ہونے والی تباہی اور منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت مصروفِ عمل ہے۔
سری لنکا کے سفیر نے فوری امداد کی فراہمی پر پاکستانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مشکل صورتحال میں پاکستان کا تعاون قابلِ قدر ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سری لنکا میں آنے والے سمندری طوفان دَتوا کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 465 ہو چکی ہے، جب کہ طوفان کے بعد آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ میں 366 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔







