وزیراعظم نے اپنے خطاب کے آغاز میں کابینہ اراکین کی موجودگی پر شکریہ ادا کیا اور اسلام آباد مذاکرات کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 47 برسوں سے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں ہمیشہ بالواسطہ رہی ہیں، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود آمنے سامنے بیٹھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس تاریخی عمل میں میزبانی کا موقع ملا، جو اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔ وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے دعوت قبول کی، جب کہ دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتے قبل جنگ بندی پر اتفاق بھی ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ 11 تاریخ کو دونوں وفود اسلام آباد پہنچے اور پاکستان کو نہ صرف میزبان بلکہ امن کے داعی کے طور پر کردار ادا کرنے کا موقع ملا، جو 24 کروڑ عوام کے لیے اعزاز ہے۔وزیراعظم نے بتایا کہ مذاکرات کے آغاز کے وقت خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے، تاہم 21 گھنٹے طویل براہِ راست بات چیت کے بعد کشیدگی میں نمایاں کمی آئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات ماضی کے معاہدوں جیسے اوسلو، جنیوا اور گڈ فرائیڈے معاہدوں کے برعکس کم وقت میں پیش رفت کا باعث بنے، جب کہ دیگر تنازعات میں مہینوں اور سالوں کا وقت لگا۔
براہِ راست:وزیراعظم محمد شہباز شریف کی کابینہ اجلاس سے گفتگو https://t.co/jjqFQweCy6
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) April 13, 2026
وزیراعظم کے مطابق جنگ بندی تاحال برقرار ہے اور باقی مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جاپان کی وزیراعظم سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے پاکستان کے کردار کو سراہا اور مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ مذاکرات مکمل طور پر کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ عالمی امن کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
وزیراعظم نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم، جب کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی شبانہ روز محنت اور حکمت عملی کے باعث یہ ممکن ہوا۔
انہوں نے کہا کہ قیادت کی دوراندیشی سے جنگ بندی پر اتفاق ممکن ہوا، تاہم بعض قومی معاملات کی تفصیلات راز میں رکھنا ضروری ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس، جب کہ ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر غالب اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی۔ دونوں وفود نے پاکستان کی مہمان نوازی اور کردار کی بھرپور تعریف کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ تاریخی موقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے پاکستان کو عطا ہوا، جس پر شکر ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 47 سال سے ایک دوسرے سے دور ممالک کو قریب لا کر ہزاروں جانیں بچانے میں کردار ادا کیا۔
آخر میں انہوں نے دعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک بھی بے گناہ جان بچ جائے تو اس سے بڑی کوئی خدمت نہیں۔






