پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 30 جون کو افغان طالبان فورسز نے بلوچستان کی سرحد کی جانب چار ابتدائی نوعیت کے ڈرونز بھیجے، تاہم پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے فوری طور پر ان کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں ہدف بنا کر تباہ کر دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مکمل پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے تمام عزائم ناکام بنا دیے، پاکستان اپنی فضائی اور زمینی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہر وقت مکمل طور پر تیار ہے۔
پاک فوج نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ اگر افغان طالبان کی جانب سے اشتعال انگیز کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے بھرپور اور مؤثر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دوسری جانب افغان وزارت دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ افغان فورسز نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں فضائی کارروائیاں کیں۔ افغان حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں داعش (آئی ایس آئی ایل) سے وابستہ عناصر کو نشانہ بنایا گیا، تاہم حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق طالبان حکومت کے پاس مکمل فعال فضائیہ موجود نہیں، تاہم حالیہ برسوں میں سرحدی علاقوں میں چھوٹے ڈرونز کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جنہیں نگرانی اور محدود حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں دراندازی، دہشت گردی کے واقعات اور جوابی کارروائیوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کئی مرتبہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
حالیہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب کراچی میں ہونے والے مہلک حملے کے بعد پاکستان نے مشرقی افغانستان میں فضائی کارروائیاں کیں۔ اسلام آباد کا مؤقف تھا کہ کارروائی میں دہشت گرد عناصر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ افغان حکومت نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں متعدد شہری متاثر ہوئے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور افغانستان مسلح تصادم کا خاتمہ کریں، متنازع امور کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کریں: روس
دفاعی اور سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے، دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی بحالی ناگزیر ہے تاکہ سرحدی تنازعات کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
دوسری جانب خطے کی صورتحال پر عالمی برادری بھی نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ مختلف ممالک پاکستان اور افغانستان پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اختلافات کو طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کریں تاکہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔







