دفترِ خارجہ کے مطابق ایسی رپورٹس بے بنیاد ہیں، اور مقامی میڈیا سے کہا گیا ہے کہ وہ حساس نوعیت کے معاملات پر رپورٹنگ کرتے ہوئے احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے پاکستان دونوں ممالک کے درمیان رابطوں میں ایک ثالث یا رابطہ کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔

جاری کشیدگی کے باعث نہ صرف عالمی سطح پر توانائی اور تجارتی بحری راستے متاثر ہوئے ہیں بلکہ علاقائی معیشتوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

رواں ہفتے اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکا کے درمیان تنازع کے حل کے امکانات پر غور کیا گیا۔

کچھ میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ سفارتی کوششیں دو مواقع پر کامیابی کے قریب پہنچیں، تاہم ایران کی جانب سے مزید مشاورت کے لیے وقت مانگنے کے باعث پیش رفت نہ ہو سکی۔

تاہم دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سفارت کاری انتہائی احتیاط اور صوابدید کی متقاضی ہے، اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔

ادھر سفارتی سرگرمیوں کے تسلسل میں وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفون پر بات چیت کی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس گفتگو میں پاکستان اور چین کی جانب سے پیش کیے گئے پانچ نکاتی امن فارمولے پر بھی بات ہوئی، جس میں فوری جنگ بندی، مذاکرات کا آغاز، شہری اور تجارتی انفراسٹرکچر کا تحفظ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری شامل ہے۔

پاکستان اس سے قبل بھی یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، تاکہ علاقائی استحکام اور عالمی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔