ویمپائر فنچ نامی یہ پراسرار چڑیا گیلاپاگوس جزائر (Galápagos Islands) کے دو انتہائی دور افتادہ اور خشک جزائر وولف (Wolf) اور ڈارون (Darwin) میں پائی جاتی ہے۔
یہ وہی گیلاپاگوس جزائر ہیں جہاں چارلس ڈارون نے تحقیق کی تھی اور فنچز پرندوں سے متعلق ان کے نظریات نے انہیں دنیا بھر میں شہرت دلائی، تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ خود چارلس ڈارون نے اپنی زندگی میں اس مخصوص ویمپائر فنچ کو کبھی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا۔
اس چڑیا کے خون پینے کی عادت کے پیچھے ایک غیر معمولی وجہ ہے۔ ان جزائر پر پینے کے لیے تازہ پانی دستیاب نہیں اور خشک موسم کے دوران بیج اور کیڑے مکوڑے بھی ختم ہو جاتے ہیں، جس کے باعث یہ چڑیا خوراک کے حصول کے لیے غیر معمولی طریقہ اختیار کرتی ہے۔
ویمپائر فنچ نازکا بوبی (Nazca Booby) نامی بڑے سمندری پرندے کو نشانہ بناتی ہے اور اس کے پروں کے نیچے بیٹھ کر اپنی نوکیلی چونچ سے بار بار وار کرتی ہے، یہاں تک کہ خون نکلنے لگتا ہے۔ خون نکلتے ہی یہ اسے پینا شروع کر دیتی ہے۔
حیران کن طور پر نازکا بوبی اس چھوٹی چڑیا کو روکنے کی کوشش نہیں کرتا۔ ماہرین کے مطابق ایک کے بعد دوسری اور پھر تیسری فنچ کے آنے سے بڑے پرندے کے لیے ان سب کو بھگانا مشکل ہو جاتا ہے۔
سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ ویمپائر فنچز کی خون پینے کی عادت دراصل بوبی پرندوں کے جسم سے کیڑے مکوڑے چن کر کھانے کے عمل سے شروع ہوئی۔ وقت کے ساتھ ان چڑیوں نے چونچ مارنے کے دوران خون کا ذائقہ دریافت کیا، جو بعد میں ان کی خوراک کا حصہ بن گیا۔
یہ چڑیاں صرف خون پینے تک محدود نہیں بلکہ اگر اس سے پیٹ نہ بھرے تو اجتماعی طور پر بوبی پرندوں کے انڈوں کو دھکیل کر چٹانوں سے نیچے گرا دیتی ہیں، جس کے بعد انڈوں کو خوراک کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق ویمپائر فنچز کے معدے میں ایسے بیکٹیریا بھی پائے گئے ہیں جو خون پینے والے چمگادڑوں میں موجود ہوتے ہیں، جبکہ اس انوکھی چڑیا کی بالغ آبادی ایک ہزار سے بھی کم بتائی جاتی ہے۔
قدرت کے سخت اور ناموافق ماحول میں زندہ رہنے کے لیے ویمپائر فنچ کا یہ غیر معمولی طرزِ زندگی ماہرین کے لیے دلچسپی کا باعث ہے، کیونکہ یہ اس بات کی مثال ہے کہ جانور کس طرح اپنی بقا کے لیے غیر معمولی طریقے اختیار کرتے ہیں۔








